پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما فواد چوہدری کا نئے آرمی چیف کی تعیناتی پر کہنا ہے کہ کوئی بھی تعینات ہو، ہمیں کوئی مسئلہ نہیں۔
نجی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ عمران خان نے کہا ہے کہ ہمیں لگانے والوں سے مسئلہ ہے۔
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ہمیں 20 تاریخ کو راولپنڈی پہنچنا تھا، لیکن عمران خان پر قاتلانہ حملے کے باعث تاریخ میں تبدیلی کی، 26 تاریخ ہفتے کا دن ہے اس لئے اس کا انتخاب کیا۔
انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کی تعیناتی کو متنازع خود حکومت نے بنایا، مفرور لوگوں سے تعیناتی کیلئے مشاورت ہورہی ہے، ہمیں تعیناتی سے مسئلہ نہیں، مشاورت کرنے والوں سے مسئلہ ہے۔ نواز شریف پاکستان کی عدالتوں سے مفرور ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کیا وزیراعظم سیکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کرسکتے ہیں، وزیراعظم خفیہ معاملات پر مشاورت نہیں کرسکتے۔
فواد چوہدری نے طنزیہ کہا کہ شہبازشریف جیلوں میں قیدیوں سے بھی مشاورت کرلیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اداروں کے ساتھ لڑنا نہیں چاہتے، میرٹ پر آنے والے سے ہمیں کیا مسئلہ ہوسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
کیرتی سینن کا پارٹنر سے متعلق پوچھے گئے سوال پر دلچسپ جواب
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ صدرِ مملکت آئین کے مطابق ذمہ داری ادا کریں گے، انہیں عمران خان کی مکمل حمایت حاصل ہے۔
فواد چوہدری نے کہا کہ ملک کے ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ بڑھتا جارہا ہے لیکن ڈیفالٹ ہونے پر اسحاق ڈار نے کوئی پالیسی نہیں دی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے کشمیر پر کوئی بات نہیں کی، وزیر داخلہ دہشتگردی کے واقعات پر نہیں بولتے، ملک میں گیس نہیں، مصدق ملک خاموش ہیں، تمام وزرا اپنی وزارتوں سے متعلق بات نہیں کر رہے، 77 وزرا ہیں لیکن گنتی کے لوگ بھی نظر نہیں آتے، یہ صرف اپنےوزارتوں سے پیسہ بنانے میں لگے ہیں، ملک میں بدترین انتظامی بحران ہے۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ صدرِ مملکت آئین کے مطابق ذمہ داری ادا کریں گے، انہیں عمران خان کی مکمل حمایت حاصل ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








