وفاقی حکومت نے انکم ٹیکس ریٹرن فارم میں شامل کیے گئے اندازاً مارکیٹ قیمت کے خانے کو ختم کرنے کا باضابطہ فیصلہ کر لیا ہے، یہ اقدام اعلیٰ سطح کی کمیٹی کی سفارشات اور وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی منظوری کے بعد سامنے آیا۔
یہ کمیٹی وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کی زیر صدارت تشکیل دی گئی تھی جس میں وفاقی وزرائے خزانہ و پیٹرولیم، اٹارنی جنرل، ڈپٹی وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی برائے کوآرڈینیشن، سیکرٹری خزانہ، ایف بی آر کے چیئرمین اور ممبر کسٹمز شامل تھے۔
کمیٹی نے ایف بی آر کی جانب سے حالیہ شرط کا تفصیلی جائزہ لیا جس کے تحت ٹیکس دہندگان کو اپنے منقولہ و غیر منقولہ اثاثوں کی منڈی قیمت ظاہر کرنا لازمی قرار دیا گیا تھا۔
پاکستان کے کاروباری مراکز ہیکرز کے نشانے پر! جانیں وہ حل جو آپ کو ہر خطرے سے بچائے گا
جمعہ 26 ستمبر کو منعقدہ اجلاس میں کمیٹی نے اس شرط کے اثرات کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور طویل بحث و مباحثے کے بعد سفارش دی کہ ٹیکس دہندگان کو درپیش مشکلات کو مدِنظر رکھتے ہوئے اس خانے کو ختم کر دیا جائے تاکہ ٹیکس ریٹرن فارم کا طریقہ کار آسان بنایا جا سکے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کمیٹی کی سفارش کو فوری طور پر منظور کر لیا۔ بعد ازاں ایف بی آر نے اپنے باضابطہ اعلامیے میں تصدیق کی کہ وزیر اعظم کے احکامات کی روشنی میں اور ٹیکس دہندگان کو سہولت فراہم کرنے کے لیے انکم ٹیکس ریٹرن فارم سے ’اندازاً منڈی قیمت‘ کا خانہ ختم کر دیا گیا ہے۔
ایف بی آر نے وضاحت کی کہ یہ خانہ محض اعداد و شمار جمع کرنے اور اقتصادی سروے میں معاونت کے لیے شامل کیا گیا تھا اور اس کا آمدنی یا ٹیکس کی واجب الادا رقم پر کوئی اثر نہیں پڑنا تھا۔
ادارے نے اپنی پالیسی کو دہراتے ہوئے عوام کو یاد دہانی کرائی کہ تمام اہل افراد 30 ستمبر 2025 کی آخری تاریخ سے قبل درست اور ایماندارانہ طریقے سے اپنے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کروائیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








