پاکستان کے کاروباری مراکز ہیکرز کے نشانے پر! جانیں وہ حل جو آپ کو ہر خطرے سے بچائے گا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

پاکستان میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار تیزی سے سائبر حملوں کی زد میں آرہے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر مناسب اقدامات نہ اٹھائے گئے تو یہ حملے کاروباری ڈھانچوں کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں جس میں مالی خسارہ، حساس معلومات کی چوری اور کاروباری ساکھ کو دھچکا لگنا شامل ہے۔

ایک معروف عالمی سائبر سیکیورٹی ادارے کی رپورٹ کے مطابق حالیہ مہینوں میں ایسے حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے جن میں جائز سافٹ ویئر کو ہیکنگ کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ سیکیورٹی سسٹمز کو چکمہ دیا جا سکے۔ ان حملوں کی خاص بات یہ ہے کہ یہ انتہائی پوشیدہ طریقے سے کیے جاتے ہیں اور عام حفاظتی نظام انہیں پہچاننے میں ناکام ہو جاتے ہیں۔

تشویش کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے اکثر کاروبار نہ تو جدید سیکیورٹی سسٹمز کے اخراجات برداشت کرسکتے ہیں اور نہ ہی ان کے پاس تربیت یافتہ ماہرین کی ٹیمیں ہوتی ہیں۔ یہی کمزوریاں سائبر حملہ آوروں کے لیے موقع بن چکی ہیں۔

کیا ٹین ایج اکاؤنٹس بچوں کومحفوظ بنا پائیں گے؟ فیس بک کا بڑا دعویٰ سامنے آگیا

صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سیکیورٹی کمپنی نے دو نئے اور نسبتاً کم لاگت والے حل پیش کیے ہیں، Kaspersky Next XDR Optimum اور MXDR Optimum۔ یہ سسٹمز خودکار نگرانی، خطرے کی فوری شناخت اور فعال ردعمل جیسے فیچرز کے ذریعے کاروباروں کو ایک مضبوط دفاعی لائن فراہم کرتے ہیں۔

یہ سسٹمز کلاؤڈ اور مقامی سسٹمز دونوں پر کام کرسکتے ہیں جس سے کاروباروں کو تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ خاص طور پر XDR Optimum اُن اداروں کے لیے موزوں ہے جن کا آئی ٹی نظام موجود تو ہے لیکن مکمل سیکیورٹی کیلئے ابھی بھی بہتری کی گنجائش موجود ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سائبر خطرات صرف ایک وقتی چیلنج نہیں بلکہ آنے والے دنوں میں یہ حملے اور بھی زیادہ پیچیدہ اور خطرناک ہوسکتے ہیں۔ ایسے میں جن کاروباروں نے ابھی تک اپنی ڈیجیٹل حفاظت کو سنجیدگی سے نہیں لیا وہ مستقبل میں سنگین نقصان اٹھا سکتے ہیں۔

Related Posts