اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے آئی ایم ایف کی شرائط پر متعارف کرائی گئی تاجر دوست اسکیم کی ناکامی کے بعد سخت فیصلے کرلیے ہیں۔
نجی ٹی وی ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق حکومت تاجر دوست اسکیم پر تاجر برادری کو قائل نہیں کرسکی جبکہ تاجروں اور ایف بی آر حکام کے مابین ڈیڈ لاک بھی ختم نہیں ہوسکا۔ ایف بی آر نے سخت فیصلے مذاکراتی عمل کی مسلسل ناکامی کے بعد کیے۔
رپورٹ کے مطابق ایف بی آر کی جانب سے تمام فائلرز کا جنرل آڈت کرنے کا پلان تیار ہوگیا ہے جس کیلئے ایف بی آر نے 4000 سے زائد آڈیٹرز کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور تاجروں کو نوٹسز جاری کرنے کا سلسلہ شروع کیا جارہا ہے۔
اس حوالے سے چیئرمین سپریم کونسل آل پاکستان انجمن تاجران نعیم میر کا کہنا ہے کہ ایف بی آر نے تیور بدل لیے اور ہڑتال کرنے والے تاجر رہنماؤں نے ہمیں سخت مشکل میں ڈال دیا۔ تاجر برادری سیاسی آلہ کار بن گئی اور سیاسی مقاصد کیلئے استعمال ہوئی۔
واضح رہے کہ ملک بھر میں کاروباری افراد کی بڑی تعداد ٹیکس چوری میں ملوث ہے، تاہم تاجر برادری ایف بی آر کا آسان ہدف ہے۔ چیئرمین سپریم کونسل انجمن تاجران نے مزید کہا کہ تاجر دوست اسکیم پر تاجروں نے جو رویہ اپنایا، اس کی وجہ سے تاجروں کا بڑا نقصان ہونے والا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








