پشاور میں ایف سی ہیڈ کوارٹر پر خودکش حملے کے نتیجے میں 3 جوان شہید جبکہ 5زخمی ہوگئے، آج سامنے آنے والی پیشرفت کے مطابق 24نومبر 2025 کو ہونے والے اس حملے میں دہشت گردوں کے سہولت کار افغان شہری نکلے۔
تفصیلات کے مطابق پشاور میں ایف سی ہیڈکوارٹرز پرخودکش دھماکوں کی تفتیش میں اہم پیشرفت سامنے آگئی۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ خودکش بمباروں کے سہولت کاروں کی نشاندہی کرلی گئی اور ان کا تعلق بھی افغانستان سے ہے۔
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد اہم گرفتاریاں بھی ہوئیں۔ واقعے کے دیگر پہلوؤں پر تحقیقات کی رفتار تیز کردی گئی۔ 24 نومبر 2025 کے حملے میں 3 ایف سی جوان شہید جبکہ 5 زخمی ہوئے۔ دہشت گردوں نے حملے کے دوران مزید 8 شہریوں کو بھی زخمی کردیا تھا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل سکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں 2 روز کے اندر آپریشن مکمل کرلیا جس کے دوران فتنہ الہندوستان کے 133 دہشت گرد جہنم واصل ہوئے جبکہ دہشت گردوں نے 18 شہریوں اور 15 جوانوں کو شہید کردیا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کا کہنا ہے کہ بھارتی اسپانسرڈ دہشت گردوں نے بلوچستان کے امن کو تباہ کرنے کی کوشش کی اور 31 جنوری کو صوبہ بلوچستان کے مختلف شہروں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا، جن میں کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، دالبندین، گوادر، خاران اور پسنی شامل ہیں۔
شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں نے خواتین، بچوں اور مزدوروں سمیت 18 شہریوں کو شہید کردیا۔ فورسز نے بھرپور جوابی کارروائی کے دوران مختلف شہروں پر ہونے والے حملوں کو ناکام بنادیا اور 3 خودکش بمباروں سمیت 92 دہشت گرد ہلاک کیے جس کے بعد 2 روز میں ہلاک دہشت گردوں کی تعداد 133 تک جا پہنچی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








