سندھ میں پائی جانے والی ایک غیر مسلم نچلی ذات کی برادری جسے مقامی طور پر کبوترا قبیلہ کہا جاتا ہے، ان کی عورتیں عموماً کبوتریاں اور مرد کبوترے کہلاتے ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق یہ کمیونٹی تاریخی طور پر خانہ بدوش یا نیم خانہ بدوش طرزِ زندگی سے وابستہ رہی ہے اور آج بھی سندھ کے مختلف اضلاع، خصوصاً تھر، عمرکوٹ، میرپور خاص، ٹنڈو الہٰیار اور زیریں سندھ کے دیگر علاقوں کے مضافات میں عارضی بستیوں میں رہتی ہے۔
کبوترا برادری سماجی اور معاشی اعتبار سے شدید پسماندگی کا شکار ہے۔ زمین، مستقل روزگار، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولتوں تک رسائی نہ ہونے کے باعث ان کی زندگی غربت، عدم تحفظ اور محرومیوں میں گھری ہوئی ہے۔ اسی پس منظر میں اس کمیونٹی میں ایک متنازع اور تکلیف دہ روایت نے جنم لیا، جسے مقامی زبان میں لڑکی کو ’’پَٹے‘‘ یا ’’لیز‘‘ پر دینا کہا جاتا ہے اور اسے لڑکی کو کرائے پر دینا بھی سمجھا جاسکتا ہے۔
اس انسانیت سوز رواج کے تحت کبوترا خاندان اپنی کم عمر یا نوجوان بیٹی کو ایک طے شدہ مدت، مثلاً 5 سے 10سال کیلئے کسی صاحبِ حیثیت فرد کے حوالے کر دیتے ہیں۔ اس کے بدلے لڑکی کے والدین کو ایک بڑی رقم پیشگی ادا کی جاتی ہے، جبکہ ماہانہ بنیادوں پر بھی ایک مقررہ رقم ملتی رہتی ہے۔ لڑکی اس مدت کے دوران اسی شخص کی رہائش گاہ پر رہتی ہے اور عملاً اس کی زندگی مکمل طور پر اس کے اختیار میں ہوتی ہے۔ یہ معاملہ کسی باقاعدہ قانونی معاہدے کے بجائے روایت، زبانی طے شدہ شرائط اور سماجی دباؤ کے تحت انجام پاتا ہے۔
کبوترا برادری کے اندر اس عمل کو روزگار یا ’’کام‘‘ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، مگر حقیقت میں یہ لڑکی کے لیے مکمل بے اختیاری، سماجی تنہائی اور نفسیاتی صدمے کا باعث بنتا ہے۔ اکثر صورتوں میں لڑکی کو بہت کم عمر میں گھر سے الگ کر دیا جاتا ہے، اسے تعلیم یا آزادانہ زندگی کا کوئی موقع نہیں ملتا، اور اس کی مرضی یا رضامندی ثانوی حیثیت رکھتی ہے۔
جب طے شدہ مدت پوری ہو جاتی ہے تو لڑکی کو واپس اس کی برادری میں بھیج دیا جاتا ہے، جہاں عموماً اس کی شادی قبیلے ہی کے کسی مرد سے کر دی جاتی ہے۔ اس کے بعد اس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ایک عام گھریلو عورت کی زندگی گزارے، ماضی پر بات نہ کرے اور مکمل وفاداری کا اظہار کرے۔ اس دوران اس کے ماضی کے تجربات کو سماجی طور پر نظر انداز کرتے ہوئے دبا جاتا ہے۔
برادری میں عورت کا معاشی کردار مرکزی حیثیت کا حامل ہے۔ عورتیں بھیک مانگنے، گھریلو مزدوری یا دیگر غیر رسمی ذرائع سے آمدن حاصل کرتی ہیں، جبکہ کئی مرد گھر سنبھالنے یا بے روزگاری کی حالت میں رہتے ہیں۔ پانی، بجلی اور صحت جیسی بنیادی سہولتوں کی عدم دستیابی نے ان کی زندگی کو مزید دشوار بنا دیا ہے۔
دراصل یہ رواج محض سماجی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی وقار، بنیادی حقوق اور جدید دور میں غلامی کی ایک اور شکل قرار دیاجاسکتا ہے۔ اگرچہ خود اس برادری کے بعض افراد کے مطابق یہ روایت اب پہلے کی نسبت کم ہو رہی ہے، تاہم اس کے اثرات آج بھی موجود ہیں اور یہ سندھ کے دیہی و نیم شہری سماج میں موجود گہری طبقاتی ناہمواری اور استحصال کی عکاسی کرتی ہے۔
اس برادری میں لڑکیوں کو ’’پَٹے‘‘ پر دینے کا رواج غربت، عدم تحفظ اور سماجی بے بسی کے امتزاج سے پیدا ہوا۔ یہ روایت نہ صرف عورت کی آزادی اور شناخت کو مجروح کرتی ہے بلکہ پورے سماج کے ضمیر پر بھی ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے اور وقت آگیا ہے کہ اس کے خلاف مؤثر قانون سازی ہو اور اس برادری کو ایسی سہولیات مہیا کی جائیں کہ انہیں اپنی عزتِ نفس کو داؤ پر لگائے بغیر روزگار سمیت دیگر بنیادی حقوق میسر آسکیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








