ٹرمپ کے طعنوں کا ڈر اور پاکستان کا خوف! مودی نے آسیان اجلاس سے راہ فرار اختیار کرلی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

بین الاقوامی خبر رساں ادارے بلوم برگ نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ملائیشیا میں ہونے والے آسیان اجلاس میں شرکت اس لیے منسوخ کر دی تاکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ممکنہ ملاقات یا پاکستان سے متعلق گفتگو سے بچا جا سکے۔

امریکی فنانشل میڈیا ادارے بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق مودی نے ملائیشیا کا طے شدہ دورہ منسوخ کر کے اجلاس میں آن لائن شرکت کو ترجیح دی۔آسیان اجلاس 26 سے 28 اکتوبر تک کوالالمپور میں منعقد ہوا۔

بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس پارٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ وزیراعظم مودی نے یہ فیصلہ ممکنہ طور پر امریکی صدر سے ملاقات کے خوف کے باعث کیا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اگر صدر ٹرمپ نے پاکستان کے بارے میں کوئی متنازع بیان دیا تو وہ مودی اور حکمراں جماعت بی جے پی کے لیے انتخابی طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتا تھا۔

رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ بھارتی حکومت اس بات پر فکرمند تھی کہ صدر ٹرمپ ایک بار پھر بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی یا ثالثی کے حوالے سے کوئی دعویٰ نہ کر دیں جیسا کہ انہوں نے ماضی میں کیا تھا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ مودی ان دنوں بہار کی انتخابی مہم میں مصروف ہیں اور کسی ایسی بین الاقوامی سرگرمی سے اجتناب کرنا چاہتے تھے جو سیاسی تنقید کا باعث بن سکے۔

بلوم برگ نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ وزیراعظم مودی نے رواں سال اگست میں امریکی صدر کی جانب سے دی گئی وائٹ ہاؤس کی دعوت بھی یہ خدشہ ظاہر کرتے ہوئے مسترد کر دی تھی کہ کہیں صدر ٹرمپ ان کی ملاقات پاکستانی فوجی قیادت، خصوصاً آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے کروانے کی کوشش نہ کریں۔

Related Posts