تحریکِ انصاف کی وفاقی حکومت نے احساس پروگرام کی چھتر چھایا تلے مستحق افراد کو باعزت روزگار فراہم کرنے کے لیے ایک اہم اقدام اٹھاتے ہوئے احساس اثاثہ جات کے آغاز کا عندیہ دیا ہے۔
احساس اثاثہ جات اسکیم کیا ہے؟
دراصل اثاثہ جات اسکیم بھی غریبوں کو مالی تحفظ فراہم کرنے کیلئے وزیر اعظم عمران خان کے ویژن کا حصہ ہے۔ اس سے قبل وزیر اعظم عمران خان صحت انصاف کارڈ اور پناہ گاہوں کا منصوبہ لائے جسے بے حد پذیرائی ملی۔
اثاثہ جات پروگرام کے تحت بے حد پسماندہ افراد کو رقوم کی بجائے سامان دے کر برسرِ روزگار کیا جائے گا۔ عوام کو گائے اور بھیڑ بکریوںسمیت مختلف مویشی دئیے جائیں گے تاکہ وہ چرواہے کا باعزت پیشہ اختیار کرسکیں۔
عوام کو مویشیوں کے ساتھ ساتھ رکشے اور ٹھیلے بھی دئیے جائیں گے۔ رکشے دینے کا مقصد یہ ہوسکتا ہے کہ کوئی بھی مستحق فرد ٹرانسپورٹ کے کاروربار سے وابستہ ہوسکے جس کی آمدنی سے وہ اپنا گھر چلا سکتا ہے۔
ٹھیلے یا باالفاظِ دیگر پتھارے دینے کا مقصد یہ ہے کہ عوام کوئی بھی چھوٹا موٹا کاروبار کرسکتے ہیں جسے سڑکوں اور گلی محلوں میں چلتے پھرتے باآسانی روزگار کا ذریعہ بنایا جاسکتا ہے۔
رقم کی بجائے سامان کیوں؟
سوال یہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے اِس پروگرام میں رقم دینے کی بجائے سامان تقسیم کرنے کی روش کیوں اپنائی؟ کیا انہیں عوام پر اعتبار نہیں؟ یا قرض دینے کے لیے حکومت کے پاس فنڈز کی کوئی کمی ہے؟
دراصل رقم دینے کا پروگرام ایسے لوگوں کے لیے کارگر ثابت ہوسکتا ہے جو بعد میں اسے واپس کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں، یعنی پہلے سے برسر روزگار افراد یا متوسط طبقہ جو قرض واپسی کا ارادہ بھی رکھتا ہو۔
مستحق افراد کا معاملہ مختلف ہوتا ہے۔ وہ زندگی کی بنیادی ضروریات کے لیے بھی بعض اوقات قرض لے کر کام چلاتے ہیں یا بعض مخیّر حضرات ان کی مدد کرتے ہیں۔ ایسے لوگ عموماً قرض واپس کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔
اس لیے وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا کہ لوگوں کو اگر رقم دی جائے گی تو وہ اسے اپنی بنیادی ضروریات پر خرچ کرکے مقروض ہوجائیں گے یا اسے ضائع کردیں گے، سامان دینا زیادہ بہتر ہے۔
پروگرام سارے ملک کے لیے نہیں
جی ہاں، یہ وضاحت ضروری ہے کہ وزیر اعظم کا یہ پروگرام ملک بھر کے مستحق افراد کا احاطہ نہیں کر پائے گا، تاہم پروگرام کے لیے ملک بھر سے 375 پسماندہ یوسیز کا انتخاب کیا گیا ہے۔
تخمینہ لگایا گیا ہے کہ تقریباً 1 لاکھ 76 ہزار مستحق خاندان اِس پروگرام سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ ملک کے 23 اضلاع میں 15 ارب روپے کی رقم نہیں بلکہ اتنی ہی مالیت کا سامان تقسیم کیا جائے گا۔
ہرخاندان 60 ہزار روپے تک کے اثاثے مفت حاصل کرسکے گا جس کا تعین مستحق افراد کی ذاتی قابلیت و صلاحیت اور علاقائی ضروریات کو دیکھتے ہوئے کیا جائے گا۔
مستفید ہونے والوں میں 60 فیصد خواتین اور 30 فیصد نوجوان بھی شامل ہوں گے جنہیں سامان مہیا کرکے کاروبار شروع کرنے میں آسانی پیدا کی جائے گی۔
احساس پروگرام کی چیئرپرسن ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس کے لیے ہم غربت سروے کریں گے۔ سروے خیبرپختونخواہ کے 10، سندھ کے 7، پنجاب کے3 اور بلوچستان کے 3 اضلاع میں ہوگا۔
تعلیم و تربیت کی بجائے سامان و تر بیت
آپ نے درست پڑھا۔ وزیر اعظم عمران خان کے ویژن کے تحت یہ پروگرام تعلیم و تربیت کی بجائے سامان و تربیت پر یقین رکھتا ہے۔ یعنی مستحق افراد کو تعلیم دینا تو ایک طویل المیعاد پروگرام ہے، تاہم انہیں مفت سامان کی فراہمی کے ساتھ ساتھ تربیت فراہم کی جائے گی جس کے تحت وہ روزگار اچھے انداز سے شروع کرسکیں گے۔
پروگرام شروع کب ہوگا؟
وزیر اعظم عمران خان رواں ماہ کی 21 تاریخ کو اثاثہ جات اسکیم کا باقاعدہ آغاز کریں گے۔ ابتدائی طور پر اس کا افتتاح صوبہ پنجاب کے جنوبی علاقے سے ہو رہا ہے، تاہم بعد ازاں اسے دیگر صوبوں میں بھی وسعت دی جائے گی۔
مستحق افراد کے لیے 2 پروگرام
وزیر اعظم عمران خان نے مستحق اور نادار افراد کو احساس کفالت پروگرام کے تحت 2000 روپے ماہانہ رقم دینے کا اعلان کیا تھا۔ یہ اعلان 31 جنوری کو کیا گیاتاہم مستحق افراد کی سامان سے مدد کا اثاثہ جات پروگرام اس سے الگ ہے۔
اس بات کی وضاحت یہاں اس لیے ضروری محسوس ہوئی کہ عوام کو روزگار اور مالی معاونت کے لیے حکومت پہلے بھی مختلف پروگرامز کا اعلان کرچکی ہے جو ایک دوسرے سے ملتے جلتے محسوس ہوتے ہیں۔
تحریکِ انصاف کی حکومت یا ویلفیئر ٹرسٹ؟
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








