اسلام آباد: وفاقی کابینہ کی جانب سے خصوصی اجلاس میں رجسٹرار سپریم کورٹ عشرت علی کی خدمت واپس لینے کی منظوری دے دی گئی۔
وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت تقریباً ایک گھنٹہ جاری رہا، جس میں سیکرٹریز اور سرکاری افسران شریک نہیں تھے، اس موقع پر رجسٹرار سپریم کورٹ کے سرکلر پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خط کے معاملے سمیت دیگر امور پر غور کیا گیا۔
وفاقی کابینہ کے اراکین نے اجلاس میں وفاقی وزیر قانون وانصاف اعظم نذیر تارڑ کی بریفنگ کے بعد سپریم کورٹ کے متوقع فیصلے کے تناظر میں اپنی اپنی رائے دی، کابینہ ارکان نے جسٹس فائز عیسیٰ خط پر عمل درآمد یقینی بنانے کی بھی تجویز دی۔
ریکوڈک منصوبے کی فنڈنگ حکومت بلوچستان کے حصے کیلئے کی جائے گی، وفاقی کابینہ سے سرکولیشن کے ذریعے سمری کی منظوری لے لی گئی،وفاقی کابینہ نے ریکوڈک تنازعہ تصفیہ کے تحت 71ارب روپے فنڈز کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیں:عدلیہ کہانی ٹو: سات دن جنہوں نے بہت کچھ بدل ڈالا
سود کی ادائیگی کیلئے 6 ارب24 کروڑ روپے کا بندوبست کیا جائے گا، فنڈز کا انتظام 31 مارچ سے 30 دسمبر 2023 کے عرصے کیلئے کیا جائے گا۔ریکوڈک کیلئے مختصر مدتی مالی سہولت کے تحت65ارب روپے کا انتظام کیا جائے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








