ملک کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی سکیورٹی پر پیدا ہونے والے خدشات نے ایک بار پھر پاکستان میں جاری سیاسی رسہ کشی اور بیان بازی کے باعث پیدا ہونے والی متنازعہ صورتحال کو اجاگر کردیا ہے۔
ہوا کچھ یوں کہ وزیرِ داخلہ رانا ثناء اللہ نے عمران خان کے خلاف حال ہی میں بیان دیا کہ عمران خان سیاست کو اس نہج پر لے گئے ہیں کہ اب یا تو وہ رہیں گے یا ہم۔ جس سے معاشرے میں بے چینی اور انتشار نے جنم لیا۔
قارئین بخوبی جانتے ہیں کہ ماضی میں مسلم لیگ (ن) کی زیرِ قیادت پی ڈی ایم حکومت نے عمران خان کی سیکیورٹی واپس لے لی تھی جس سے ان کی جان خطرے میں پڑ گئی تھی۔ لہٰذا یہ بات قابل فہم ہے کہ انہوں نے مناسب سیکیورٹی کی فراہمی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔ اپنی حفاظت ہر شہری کا حق ہے اور عمران خان بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے اس حوالے سے وفاقی وزارت داخلہ اور رانا ثناء اللہ کے ساتھ ساتھ وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ یہ ایک خوش آئند اقدام ہے اور تمام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے جنہوں نے ماضی میں ملک کی خدمت کی ہے۔
یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ عمران خان نہ صرف پاکستان کے سابق وزیر اعظم ہیں بلکہ ایک قومی ہیرو بھی ہیں جنہوں نے 1992 کے کرکٹ ورلڈ کپ میں ملک کو فتح سے ہمکنار کیا تھا۔ ملک کے لیے ان کی خدمات بہت زیادہ ہیں اور قوم انھیں ہمیشہ یاد رکھے گی۔ اس لیے اس کے لیے مناسب تحفظ کی فراہمی صرف قانونی ذمہ داری نہیں بلکہ اخلاقی فرض بھی ہے۔
تمام شہریوں کی حفاظت اور تحفظ کو یقینی بنایا جانا چاہیے، ملکی سیاستدانوں، قومی ہیروز اور کرکٹرز کی حفاظت بھی ضروری ہے۔ وفاقی وزراء اور سیاستدان ایسے بیانات دینے سے گریز کریں جس سے معاشرے میں بے چینی اور تناؤ پیدا ہو۔ اس حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ ایک مثبت قدم ہے، جس سے امید کی جاسکتی ہے کہ عمران خان کی سیکیورٹی جلد بحال ہو جائے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں