اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تحت غریب اور نادار افراد کی امدادی رقوم میں خرد برد اور رشوت ستانی میں ملوث ایک بڑے منظم نیٹ ورک کا پردہ فاش کر دیا ہے۔
ایف آئی اے ہیڈکوارٹرز کے مطابق کارروائی کے دوران 21 مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جن میں تین سرکاری اہلکار بھی شامل ہیں۔
یہ کارروائی سندھ کے شہر میرپورخاص میں واقع بی آئی ایس پی سینٹر، ناگوری ہال پر ایک ٹارگٹڈ چھاپے کے دوران عمل میں لائی گئی۔
گرفتار ہونے والے افراد میں 18 غیر مجاز سب ایجنٹس اور تین بی آئی ایس پی ملازمین شامل ہیں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ گروہ غریب ترین مستحقین کو نشانہ بنا کر ان کی مالی امداد سے غیر قانونی کٹوتیاں کرتا تھا۔
ملزمان اصل مستحقین کے ناموں پر رجسٹرڈ الیکٹرانک ڈیوائسز کے ذریعے ادائیگیوں کا عمل چلاتے اور فی مستحق 1500 سے 2000 روپے تک رقم کاٹ لیتے تھے جو بعد ازاں رشوت کے طور پر متعلقہ افسران اور فرنچائز مالکان میں تقسیم کی جاتی تھی۔
ذرائع کے مطابق جن خواتین نے غیر قانونی کٹوتی دینے سے انکار کیا یا شکایت کی، ان کے بی آئی ایس پی اکاؤنٹس اور آئی ڈیز بلاک کر دی گئیں۔
اس دھوکہ دہی کا دائرہ کئی ماہ سے مختلف علاقوں تک پھیلا ہوا تھا، جس سے متعدد مستحق خواتین کو اپنی امدادی رقم مکمل طور پر وصول کرنے میں دشواری کا سامنا رہا۔
چھاپے کے دوران ایف آئی اے نے دو لاکھ ترپن ہزار روپے نقدی، نو الیکٹرانک ڈیوائسز، دو سلیکون انگوٹھے کے سانچے، ایک گلو گن مشین اور دیگر سامان برآمد کیا، جو غیر قانونی لین دین میں استعمال کیا جا رہا تھا۔
ایف آئی اے نے ملزمان کے خلاف متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ترجمان کے مطابق تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے اور امکان ہے کہ اس نیٹ ورک میں ملوث مزید سرکاری اہلکاروں اور فرنچائز مالکان کو بھی گرفتار کیا جائے گا۔
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی شفافیت، دیانت داری اور عوامی امانت کے تحفظ کے لیے ایک اہم قدم ہے تاکہ غریب ترین طبقے کے لیے بنائے گئے فلاحی منصوبوں کو کرپشن سے محفوظ رکھا جا سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








