ایک ایسے ملک میں جہاں تقریباً 45 فیصد نوجوان ملازمت کے متلاشی افراد کی عمر 15 سے 24 سال کے درمیان ہے اور جہاں ہر سال تقریباً بیس لاکھ نئے افراد روزگار کی تلاش میں لیبر مارکیٹ میں داخل ہوتے ہیں وہاں سرکاری نوکری کا اشتہار صرف ایک اطلاع نہیں رہتا بلکہ ایک بڑی قومی خبر بن جاتا ہے۔ اسی ماحول میں جب فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بھرتیوں کے اعلان کرتی ہے تو یہ غیر معمولی توجہ حاصل کرتا ہے۔
وفاقی وزارت داخلہ و نارکوٹکس کنٹرول کی جانب سے جاری حالیہ اشتہار میں ایف آئی اے نے مجموعی طور پر 1,394 آسامیوں کا اعلان کیا ہے جو نو مختلف کیٹیگریز پر مشتمل ہیں۔ ان میں کانسٹیبل (BS-05) سے لے کر اسسٹنٹ (BS-15) تک کے عہدے شامل ہیں۔
ہر امیدوار کے لیے درخواست جمع کروانے کے ساتھ 2,000 روپے کا ناقابل واپسی بینک چالان جمع کرانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ یہی شرط جب بڑے پیمانے پر دیکھی جائے تو اس کے مالی اثرات حیران کن حد تک بڑھ جاتے ہیں اور کئی سوالات کو جنم دیتے ہیں۔
یہ آسامیوں کی تقسیم اوپن میرٹ کے ساتھ ساتھ خواتین، اقلیتوں اور معذور افراد کے کوٹے پر بھی کی گئی ہے جبکہ یہ ملک کے مختلف خطوں جیسے پنجاب، سندھ (دیہی و شہری)، خیبر پختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان، سابقہ فاٹا اور آزاد جموں و کشمیر میں پھیلی ہوئی ہیں۔ آسامیوں میں اسسٹنٹ، سب انسپکٹر، سٹینو ٹائپسٹ، اپر اور لوئر ڈویژن کلرک، اسسٹنٹ سب انسپکٹر، کانسٹیبل، ڈرائیور کانسٹیبل اور اسٹاف کار ڈرائیور جیسے عہدے شامل ہیں جن کے لیے تعلیمی قابلیت پرائمری سے لے کر گریجویشن تک رکھی گئی ہے۔
اس پورے عمل میں ممکنہ درخواست گزاروں کی تعداد کا اندازہ لگایا جائے تو صورتحال مزید واضح ہو جاتی ہے۔ ملک میں وفاقی اداروں کی نوکریوں کے لیے اکثر درخواستیں دستیاب آسامیوں سے کئی گنا زیادہ ہوتی ہیں۔ ایف ائی اے جیسے ادارے کے لیے جو قومی سطح پر اہم حیثیت رکھتا ہے اگر محتاط اندازے کے مطابق بھی 5 لاکھ افراد درخواست دیں تو مالی لحاظ سے یہ رقم ایک ارب روپے تک پہنچ سکتی ہے۔ اگر یہ تعداد بڑھ کر 10 لاکھ تک پہنچ جائے تو یہ دو ارب روپے کے قریب چلی جاتی ہے جو صرف درخواست فیس کی مد میں جمع ہو سکتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس پورے عمل میں مقابلہ انتہائی سخت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لاکھوں امیدواروں میں سے صرف ایک انتہائی محدود تعداد کو ہی کامیابی حاصل ہوتی ہے جبکہ باقی افراد اپنی فیس ادا کرنے کے باوجود کامیابی سے محروم رہتے ہیں۔
اس تمام صورتحال کا پس منظر ملک کی معاشی حقیقتوں سے جڑا ہوا ہے۔ پاکستان میں بے روزگاری کی شرح 6.3 فیصد کے قریب ہے جبکہ سب سے زیادہ متاثرہ طبقہ نوجوان ہیں۔ ملک کی تقریباً 62 ملین سے زائد نوجوان آبادی میں ہر سال تقریباً 20 لاکھ افراد روزگار کے بازار میں داخل ہوتے ہیں مگر معیشت اتنی ملازمتیں پیدا نہیں کر پاتی کہ اس دباؤ کو جذب کیا جا سکے۔ ایسے میں ایک سرکاری نوکری چاہے وہ ابتدائی گریڈ کی ہی کیوں نہ ہو خاندانوں کے لیے ایک بڑی امید بن جاتی ہے۔
اسی امید کے پس منظر میں امیدوار 2,000 روپے کا چالان جمع کرواتے ہیں جو کئی گھرانوں کے لیے ایک بھاری مالی بوجھ بھی ہو سکتا ہے خاص طور پر دیہی علاقوں میں جہاں آمدن پہلے ہی محدود ہوتی ہے۔
یہ سوال بھی اہم بنتا جا رہا ہے کہ یہ فیس کہاں جاتی ہے۔ آیا یہ سرکاری خزانے میں جمع ہوتی ہے، ادارے کے انتظامی اخراجات میں استعمال کی جاتی ہے یا کسی تیسرے فریق کے ذریعے ٹیسٹنگ نظام میں جاتی ہےاس بارے میں واضح اور عوامی سطح پر دستیاب معلومات موجود نہیں ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ درخواست فیس کا مقصد انتظامی اخراجات پورا کرنا بتایا جاتا ہے لیکن جب یہ رقم اربوں میں پہنچ جائے اور اس کا بڑا حصہ کامیابی نہ پانے والے لاکھوں امیدواروں سے وصول ہو تو اس نظام کی شفافیت اور منصفانہ استعمال پر سوالات اٹھنا فطری امر ہے۔
یہ رجحان صرف ایف ائی اے تک محدود نہیں بلکہ ملک بھر میں سرکاری بھرتیوں کے مختلف نظاموں میں دیکھا جاتا ہے جہاں کم آسامیوں کے مقابلے میں درخواستیں بے حد زیادہ ہوتی ہیں اور فیس کا نظام ہر جگہ ایک مستقل عنصر بن چکا ہے۔
یہ معاملہ صرف ایک بھرتی اشتہار نہیں رہتا بلکہ ایک بڑے نظامی سوال کی صورت اختیار کر لیتا ہے جس میں یہ دیکھا جانا ضروری ہے کہ امیدوں پر مبنی اس اربوں روپے کے نظام کی نگرانی اور شفافیت کس حد تک یقینی بنائی جا رہی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








