پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں ہفتہ کے روز منعقدہ پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاکستان کے قومی خودمختاری، علاقائی سلامتی اور عالمی امن کے بارے میں واضح اور دو ٹوک مؤقف کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مقدس سرزمین کا ایک انچ بھی دشمن کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔ فیلڈ مارشل منیر نے باور کرایا کہ پاکستان کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا اور کسی بھی خطرے کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
اپنے خطاب میں آرمی چیف نے بھارت کو غیر ذمہ دارانہ رویے سے باز رہنے کی سخت تنبیہ کی۔
انہوں نے کہا کہ ایٹمی طاقت رکھنے والے خطے میں جنگ کی کوئی گنجائش نہیں اور بھارت کو چاہیے کہ وہ تمام دیرینہ تنازعات کو برابری اور باہمی احترام کی بنیاد پر پرامن طور پر حل کرے۔
فیلڈ مارشل منیر نے واضح کیا کہ اگر بھارت نے کسی قسم کی اشتعال انگیزی کی تو اسے غیر متناسب اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔
افغانستان کے بارے میں بات کرتے ہوئے فیلڈ مارشل منیر نے افغان عوام کو امن، ترقی اور باہمی تعاون کا راستہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان کے عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ انتہا پسندی کے بجائے سلامتی اور خوشحالی کا انتخاب کریں۔
انہوں نے عبوری افغان حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین سے دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے کیونکہ پاکستان سرحد پار حملوں کو مزید برداشت نہیں کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ طالبان حکومت کو چاہیے کہ وہ ان گروہوں کے خلاف کارروائی کرے جنہوں نے افغانستان میں پناہ لے رکھی ہے اور پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہیں۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھارت کے پراکسی نیٹ ورکس کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت علاقے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی سازشوں میں ملوث ہے تاہم پاکستان ان خطرات کا فیصلہ کن جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ بھارتی پراکسیز کو مٹی میں ملا دیا جائے گا۔
فیلڈ مارشل منیر نے فلسطین اور کشمیر کے مظلوم عوام کی جدوجہد کو انسانیت کے ضمیر پر ایک زندہ زخم قرار دیا اور کہا کہ پاکستان ہمیشہ ان کی آزادی اور حقِ خود ارادیت کی حمایت کرتا رہے گا۔
انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرے اور ان مظالم کے خلاف واضح مؤقف اختیار کرے۔
انہوں نے اسرائیل کی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دنیا اب اس کے قتل عام، جبری بے دخلی اور بے گناہ فلسطینیوں کی شہادت کو پہچاننے لگی ہے۔
فیلڈ مارشل منیر نے امید ظاہر کی کہ غزہ میں سیز فائر برقرار رہے گا تاکہ امدادی سرگرمیاں اور تعمیرِ نو کے کام متاثرہ آبادی تک پہنچ سکیں۔
انہوں نے پاکستان کے دیرینہ مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ مسئلہ فلسطین کا واحد حل دو ریاستی فارمولا ہے، جس کے تحت 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مبنی آزاد فلسطینی ریاست قائم ہو، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
انہوں نے اپنے خطاب میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن کے فروغ کے لیے کیے گئے اقدامات کو بھی قابلِ تعریف قرار دیا۔
فیلڈ مارشل منیر نے ملک کے اندرونی و بیرونی دشمنوں کو خبردار کیا کہ وہ عوام اور مسلح افواج کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں لیکن یہ کوششیں ناکام ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے دشمن عوام اور فوج کے درمیان تعلق کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر قوم اور اس کے محافظ ایک ہیں۔
کاکول میں فیلڈ مارشل منیر کا خطاب عزم، حکمت اور مزاحمت کا عکاس تھا جس نے پاکستان کے اس عہد کو دہرا دیا کہ ملک نہ صرف اپنی سرزمین کی حفاظت کرے گا بلکہ علاقائی امن، سفارتکاری اور استحکام کے لیے بھی اپنا مؤثر کردار ادا کرتا رہے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








