بلوچستان کے وزیر علی حسن بروہی نے کردار کشی کے الزام میں صحافیوں کیخلاف مقدمہ درج کروادیا ہے، مقدمے میں چیئرمین آباد حسن بخشی اور سابق پولیس افسر راؤ انوار کو بھی نامزدکیا گیا ہے۔
بلوچستان کے صوبائی وزیر علی حسن بروہی عرف زہری کے منیجر علی اصغر زہری کی مدعیت میں ضلع حب کے تھانہ بیروٹ میں معروف صحافی فرحان ملک، صحافی اسامہ الطاف، آباد کے چیئرمین حسن بخشی، سابق ایس ایس پی راؤ انوار سمیت متعدد افراد کے خلاف الیکٹرانک کرائمز (پیکا) ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق ملزمان نے صوبائی وزیر علی حسن بروہی کے خلاف ایک منظم میڈیا مہم شروع کی تھی، جس کا مقصد ان کی سیاسی و سماجی ساکھ کو نقصان پہنچانا تھا۔
رپورٹ کے مطابق یہ مہم یوٹیوب پروگرام سسٹم کے ذریعے چلائی گئی جسے ایف آئی آر میں ایک سنگین جرم قرار دیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق اس کارروائی کا مقصد منتخب عوامی نمائندے کو نشانہ بنانا اور ان کے خلاف غلط معلومات پھیلانا تھا۔
مقدمے میں نامزد دیگر ملزمان میں سید ممتاز عالم، سید کاظم رضوی، فرید ڈلاری اور دیگر افراد شامل ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق مقدمے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور سائبر کرائم و تفتیشی ٹیموں کو شواہد اکٹھے کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔

یوٹیوب چینل رفتار نے علی حسن بروہی کی جانب سے مقدمے کی تصدیق کرتے ہوئے قانونی طور پر جواب دینے کے عزم ظاہر کرتے ہوئے قوم سے دعاؤں کی درخواست کی ہے۔
رفتار انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دو ہفتے پہلے ہم نے کراچی میں قبضہ مافیا پر ڈاکیومنٹری بنائی تھی جس میں دستاویزات کے ساتھ ثابت کیا تھا کہ کیسے شہر میں قبضہ مافیا منظم انداز میں کام کررہا ہے۔
ڈاکیومنٹری بنانے کے دوران ہم نے ہر اس شخص سے رابطہ کرنے کی کوشش کی جس کا قبضوں کے حوالے سے مبینہ طور پر نام لیا جارہا تھا۔
اس کے باوجود ہمارے اوپر حب میں پیکا قوانین کے تحت بوگس اور مضحکہ خیز ایف آئی آر درج کروائی گئی ہے۔ ہم اس مشکل کو سچ بولنے کی قیمت سمجھتے ہیں اور یقین دلاتے ہیں کہ ہم سچ بولتے رہیں گے۔
اس معاملے پر ہم اپنے وکیلوں سے رابطے میں ہیں لیکن آپ سب سے ایک بار پھر اسی طرح سپورٹ اور دعاوں کی ریکویسٹ جیسے آپ نے مارچ میں کی تھیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








