جہلم: پولیس نے تصدیق کی ہے کہ معروف مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق یہ مقدمہ شہر کے تھانہ سٹی میں ایک مقامی شہری کی شکایت پر درج کیا گیا۔ مقدمہ انسداد الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) اور پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 295-سی کے تحت قائم کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایک روز قبل ہی انجینئر محمد علی مرزا کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 3ایم پی او (مینٹیننس آف پبلک آرڈر) کے تحت حراست میں لے کر ڈسٹرکٹ جیل میں نظر بند کیا گیا تھا۔
1960 کے ایم پی او ایکٹ کی دفعہ 3 کے تحت حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ کسی بھی شخص کو عوامی سلامتی یا امن عامہ کے خلاف سرگرمیوں سے روکنے کے لیے گرفتار یا نظر بند کیا جا سکے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے انجینئر محمد علی مرزا کی اکیڈمی کو سیل کر دیا گیا ہے جبکہ ان کی رہائش گاہ اور اکیڈمی کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔
انجینئر محمد علی مرزا کا شمار ان مذہبی اسکالرز میں ہوتا ہے جو سوشل میڈیا پر وسیع مقبولیت رکھتے ہیں۔ ان کے یوٹیوب چینل پر کم از کم 31 لاکھ سبسکرائبرز ہیں اور اب تک تقریباً 2400 ویڈیوز اپلوڈ کی جا چکی ہیں۔
یاد رہے کہ 2021 میں بھی انجینئر محمد علی مرزا قاتلانہ حملے میں بال بال بچے تھے جب ہفتہ وار درس کے دوران حملہ آوروں نے انہیں چاقو کے وار سے زخمی کر دیا تھا۔
پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 295سی توہینِ رسالت ﷺ کے حوالے سے نہایت سخت اور حساس قانون ہے۔
اس قانون کے مطابق اگر کوئی شخص براہِ راست یا بالواسطہ، کسی بھی الفاظ، تحریر، اشارے، تصویری اظہار یا کسی بھی ذریعے سے حضرت محمد ﷺ کی شان میں اہانت یا گستاخی کرتا ہے تو اسے سنگین جرم تصور کیا جاتا ہے۔
اس جرم کی سزا سزائے موت یا عمر قید کے ساتھ ساتھ جرمانہ بھی رکھی گئی ہے۔ یہ دفعہ 1986 میں ضیاء الحق کے دور حکومت میں تعزیراتِ پاکستان میں شامل کی گئی تھی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








