امریکا میں امیگریشن حکام کا چھاپہ، فائرنگ سے خاتون کی ہلاکت پر ہنگامہ

تازہ ترین

تازہ ترین

حنا پرویز بٹ
(فوٹو: آن لائن)

امریکا میں امیگریشن حکام کی چھاپہ مار کارروائی کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں خاتون ہلاک ہوگئی، واقعے کے نتیجے میں عوام کی بڑی تعداد سراپا احتجاج ہے۔

تفصیلات کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ امریکی شہر میناپولس میں پیش آیا جہاں امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ نے چھاپہ مار کارروائی کی۔ ایک اہلکار کی فائرنگ کے نتیجے میں خاتون اس وقت ہلاک ہوئیں جب رہائشی علاقے  میں غیر قانونی مہاجرین کے خلاف آپریشن کی مخالفت میں بڑے پیمانے پر احتجاج کیا جارہا تھا۔

اس حوالے سے امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ نے جب چھاپہ مارا، تو کچھ افراد نے اہلکاروں کا راستہ بلاک کردیا تھا۔ اسی دوران ایک خاتون ڈرائیور نے ائی سی ای اہلکاروں کو گاڑی سے کچلنے کی کوشش کی جس کے ردِ عمل میں ایک اہلکار نے خاتون کو گولی ماردی جو جان لیوا ثابت ہوئی۔

بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واقعے پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ آئی سی ای افسر نے بظاہر اپنے دفاع میں گولی چلائی کیونکہ خاتون اس افسر کو گاڑی سے کچل رہی تھی، خاتون نے بے نظمی، رکاوٹ اور مزاحمت کی تھی، آئی سی ای افسر اپنا دفاع کررہا تھا جب اس نے فائرنگ کی۔

تاہم رکن کانگریس الہان عمر سمیت متعدد امریکی رہنماؤں نے واقعے کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ الہان عمر کا کہنا ہے کہ ائی سی اہلکار کا اقدام ناقابلِ معافی اور انتہائی قابلِ مذمت ہے۔ عوام کی حفاظت کی بجائے ان کے قتل کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے جو ناقابلِ معافی ریاستی تشدد ہے، جس کاب آئی سی ای کو دینا ہوگا۔

Related Posts