لاہور میں بد ترین فضائی آلودگی کے خلاف قانون حرکت میں آگیا، شہری انتظامیہ نے سموگ مخالف کریک ڈاؤن میں 93 فیکٹری مالکان پر مقدمات درج کرتے ہوئے بھاری جرمانہ عائد کیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ڈپٹی کمشنر لاہور نے کہا کہ شہر میں سموگ کے انسداد کیلئے زبردست کریک ڈاؤن جاری ہے۔ 20 ستمبر سے 4 نومبر تک 1 ہزار 231 فیکٹریوں کا معائنہ کیا گیا۔
دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں لاہور پہلے نمبر پر آگیا
ٹوئٹر پیغام میں ڈپٹی کمشنر لاہور محمد علی نے کہا کہ 461 صنعتی یونٹس کو قانون کی خلاف ورزی پر نوٹس جاری جبکہ 52 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ 93 فیکٹری مالکان کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے۔
انسداد سموگ پر زبردست کریک ڈاؤن جاری ہے. 20 ستمبر سے لیکر 04 نومبر تک 1231 فیکٹریوں کا معائنہ کیا گیا.
461 صنعتی یونٹس کو نوٹس جاری جبکہ 52 لاکھ کا جرمانہ عائد کیا گیا. 93 مالکان کے خلاف مقدمات کا اندراج کروایا گیا.#smog #Lahore
— Deputy Commissioner Lahore (@DCLahore) November 5, 2022
سموگ کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران اینٹوں کے 158 بھٹے چیک کیے گئے۔ ایس او پیز پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث 3 بھٹہ مالکان کے خلاف بھی مقدمات درج کیے گئے۔ فضا آلودہ کرنے والی 369 گاڑیاں بند کردی گئیں۔
ڈی سی لاہور کا کہنا ہے کہ فضائی آلودگی کا باعث بننے والی 3 ہزار 783 گاڑیوں پر 32 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا۔ کچرا جلانے پر 20 افراد کے خلاف مقدمات درج ہوئے جبکہ 81افراد کو 3لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا۔
خیال رہے کہ اس سے قبل اسموگ، گرد و غبار اور دھویں میں اضافے کے باعث لاہور آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر آگیا۔
گردوغبار اور دھویں کے بادلوں نے لاہور شہر میں ڈیرے ڈال لیے، جس کے باعث شہریوں کی بڑی تعداد بیمار ہونے لگی۔ لاہور کو آج سے 3 روز قبل دنیا کا آلودہ ترین شہر قرار دیا گیا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








