ملک کی پہلی اے آئی انفلوئنسر پاکستانی یا غیرملکی؟ نئی بحث چھڑ گئی

تازہ ترین

تازہ ترین

اے آئی انفلوئنسر
(فوٹو: آن لائن)

ملک کی پہلی اے آئی انفلوئنسر پاکستانی ہے یا غیر ملکی؟ سوشل میڈیا صارفین کے مابین نئی بحث چھڑ گئی ہے جبکہ گزشتہ ہفتے مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والی انفلوئنسر نے ہزاروں مداح بھی پیدا کرلیے۔

تفصیلات کے مطابق مصنوعی ذہانت سے بائی گئی سوشل میڈیا انفلوئنسر کا نام شبنم رکھا گیا ہے جس کے فالوورز کی تعداد صرف ایک ہفتے میں 2000 سے تجاوز کرگئی۔ شبنم کا شہر اسلام آباد اور شوق کھانا کھانا اور ایکسرسائز کرنا بتائے گئے ہیں۔

پاکستان کے دلفریب فطری نظاروں کے ساتھ شبنم کی تصاویر عوام کی توجہ کا مرکز بن گئیں۔ 16 جولائی کو پہلی تصویر کی لوکیشن گلگت بلتستان میں اسکردو بتائی گئی ہے۔ مختلف تصاویر میں شبنم نے مشرقی اور مغربی ملبوسات پہن رکھے ہیں۔

بعض سوشل میڈیا صارفین کا ماننا ہے کہ شبنم کا نام تو مشرقی ہے لیکن اس کے جسمانی خدوخال، چہرے کی بناوٹ اور بال مغربی طرز کے ہونے کی وجہ سے وہ غیر ملکی نظر آتی ہیں، تاہم اسی سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر کچھ تصاویر میں وہ پاکستانی نظر آتی ہے۔

اے آئی انفلوئنسر کیا ہوتا ہے؟

سب سے پہلے چیٹ جی پی ٹی کی مدد سے اے آئی نے ہمیں تحریری مواد سے نوازا اور پھر مصنوعی ذہانت نے فوٹو اور ویڈیو کی دنیا میں بھی قدم رکھ دیا۔ آج آپ بنگ ڈاٹ کام یا دیگر اے آئی سروسز کی مدد سے اپنی مرضی کی کوئی بھی تصویر تیار کرسکتے ہیں۔

شبنم  نہ کوئی انسان ہے نہ روبوٹ، بلکہ تصاویر کا مجموعہ ہے محض تحریری مواد کی مدد سے مصنوعی ذہانت کی خدمات حاصل کرکے تخلیق کیا گیا ہے، اس لیے سوشل میڈیا پر تخلیق کی گئی اب تک کی 16تصاویر کے علاوہ یہ لڑکی کوئی حقیقی وجود نہیں رکھتی۔

Related Posts