پشاور ہائیکورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس مسرت ہلالی نے حلف اٹھا لیا

تازہ ترین

تازہ ترین

پشاور ہائیکورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس مسرت ہلالی نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق گورنر خیبر پختونخوا غلام علی نے چیف جسٹس مسرت ہلالی سے ان کے عہدے کا حلف لیا۔ تقریبِ حلف برداری میں نگراں حکومت کے وزراء اور جج صاحبان شریک ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں:

کے پی میں اکھاڑ پچھاڑ، 41افسران کے تقرر اور تبادلے

تقریبِ حلف برداری میں وکلاء اور سیاسی و سماجی شخصیات نے بھی شرکت کی۔ پشاور ہائیکورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس مسرت ہلالی نے عہدے کا حلف اٹھایا۔

اکسٹھ سالہ جسٹس مسرت ہلالی نے 1983ء میں قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد وکالت شروع کی تھی۔ 1988ء میں ہائیکورٹ اور 2006ء میں سپریم کورٹ کی وکیل بھی بنیں۔

بعد ازاں 2013 میں مسرت ہلالی کو پشاور ہائیکورٹ کی ایڈیشنل جج تعینات کیا گیا جو 2014ء میں ہائیکورٹ کے مستقل ججز میں شامل ہو گئیں۔ انہوں نے 2007ء کی وکلاء تحریک میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

ماضی میں جسٹس مسرت ہلالی نے پشاور ہائیکورٹ بار کی نائب صدر، سیکریٹری، پہلی خاتون ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل اور پہلی صوبائی محتسب کے طور پر بھی خدمات سرانجام دے چکی ہیں۔

ہائیکورٹ وکلاء کا کہنا ہے کہ جسٹس مسرت ہلالی کی بطور چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ تعیناتی تاریخی کامیابی ہے۔ خاص طور پر خواتین کو جسٹس مسرت ہلالی کی تقرری سے فائدہ پہنچے گا۔

Related Posts