آواز کی رفتار سے تیز جہاز اڑانے والے پہلے پائلٹ کا 97 برس کی عمر میں انتقال ہوگیا

تازہ ترین

تازہ ترین

آواز کی رفتار سے تیز جہاز اڑانے والے پہلے پائلٹ کا 97 برس کی عمر میں انتقال ہوگیا
آواز کی رفتار سے تیز جہاز اڑانے والے پہلے پائلٹ کا 97 برس کی عمر میں انتقال ہوگیا

واشنگٹن ڈی سی:  دنیا بھر میں سب سے پہلے آواز کی رفتار سے بھی تیز جہاز اڑانے والے امریکی پائلٹ چک ایگر کا 97 برس کی عمر میں انتقال ہوگیا ہے۔

سب سے پہلے  چک ایگر کے انتقال کی خبر چک ایگر کے ہی اکاؤنٹ سے ان کی اہلیہ وکٹوریہ ایگر نے دی جس کی تصدیق امریکی محکمۂ دفاع کی طرف سے کی گئی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر گزشتہ روز اپنے پیغام میں چک ایگر کی اہلیہ وکٹوریہ ایگر نے کہا کہ بے حد گہرے غم اور افسوس کے ساتھ مجھے آپ کو یہ بتانا پڑ رہا ہے کہ میری زندگی کا پیار چک ایگر 9 بجے رخصت ہوگیا۔

پیغام میں نامی گرامی پائلٹ چک ایگر کی تعریف کرتے ہوئے ان کی اہلیہ نے لکھا کہ انہوں نے ناقابلِ یقین حد تک زبردست زندگی گزاری، وہ امریکا کے عظیم ترین پائلٹ تھے جو طاقت، ایڈونچر اور حب الوطنی سے بھرپور تھے جنہیں ہمیشہ یاد کیا جائے گا۔ 

امریکا کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں موجود چک ایگر کے مداحوں، امریکی سپاہیوں، افسران اور اعلیٰ حکام نے چک ایگر کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔

امریکی ریاست ورجینیا میں چک ایگرنے 13 فروری 1923ء کے روز آنکھ کھولی۔ سن 1947ء میں چک ایگر نے تاریخ میں پہلی بار ایک فلائٹ کے دوران آواز کی رفتار سے تیز جہاز اڑا کر دنیا کو حیران کردیا تھا۔

جنگِ عظیم دوم کے دوران چک ایگر سن 1941ء میں امریکی ائیر فورس میں بھرتی ہوئے۔ ستمبر 1942ء میں پائلٹ کی ٹریننگ شروع کی اور جنگِ عظیم دوم کے فلائٹ آفیسر مقرر ہوئے۔

انہوں نے جنگ کے دوران دشمن کے 11 سے زائد جہاز تباہ کردئیے تھے۔ جنگ کے بعد ایگر ایک ٹیسٹ پائلٹ بنے اور مختلف قسم کے جہاز اڑاتے رہے اور 14 اکتوبر 1947ء وہ تاریخی دن تھا جب چک ایگر نے آواز کی رفتار کو بھی شکست دے دی۔

بعد ازاں چک ایگر نے رفتار اور مہارت کے حوالے سے مزید بھی متعدد ریکارڈز اپنے نام کیے جن کی وفات  کے بعد تاریخِ انسانی مدتوں انہیں یاد کرتی رہے گی۔ 

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کی انتقامی کارروائی، چین کے 14 اعلیٰ حکام پر پابندیاں عائد

Related Posts