کراچی: بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کے بعد سے دریا بپھر گئے، سیلابی ریلے پنجاب میں تباہی پھیلانے کے بعد سندھ پہنچ گئے جس سے نشیبی علاقے زیرِ آب آنے کا خدشہ ہے۔
تفصیلات کے مطابق سیلابی ریلے کی آمد سے پنو عاقل کے قریب کینال میں 100 فٹ چوڑا شگاف پڑ جانے کے باعث فصلیں زیرِ آب آگئی ہیں جبکہ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں کے حکام اطلاع دینے کے باوجود جائے وقوعہ تک نہیں پہنچے۔
سائٹ ایریا میٹروول میں ملزمان بینک کے باہر سے 80 لاکھ لے اُڑے
دریائے ستلج میں اونچے درجے کے سیلاب نے بہاولپور کے قریب 76 ہزار افراد کو نقل مکانی پر مجبور کردیا۔ لودھراں میں مقامی آبادی کو سیلاب سے ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے خیمہ بستیاں قائم کردی گئی ہیں جہاں سیلاب متاثرین کو عارضی طور پر رکھا جائے گا۔
بعض میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ سیلاب کے باعث پاک پتن، عارف والا، قصور اور اوکاڑہ میں دریا کے قریب بسائی گئی بستیاں زیرِ آب آگئی ہیں۔ ریسکیو کارروائیوں میں پاک فوج کے جوان بھی شامل ہیں۔ متاثرینِ سیلاب کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے گا۔
دوسری جانب محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں بارشوں کا سلسلہ بدھ سے 27اگست تک جاری رہے گا۔ اس دوران پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ جبکہ 23سے 26اگست تک راولپنڈی اسلام آباد سمیت دیگر شہروں میں بارش ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








