سیلابی ریلے سندھ سے ٹکرا گئے، دریا میں شدید طغیانی، حکومت نے ہنگامی اقدامات تیز کردیے

تازہ ترین

تازہ ترین

فائل فوٹو
پنجاب سے سیلابی ریلے سندھ کی حدود میں داخل ہوگئے، جس کے نتیجے میں دریائے سندھ کی سطح بھی تیزی سے بلند ہو رہی ہے، ادھر سندھ حکومت نے عوام کے تحفظ کے لیے ہنگامی اقدامات تیز کر دیے ہیں۔

سندھ میں دریاؤں اور بیراجوں پر پانی کی آمد و اخراج میں مسلسل اتار چڑھاؤ جاری ہے جس سے ممکنہ سیلاب کے خدشات برقرار ہیں۔ صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ حکومت سندھ عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے الرٹ ہے۔

پنجند بیراج کے مقام پر پانی کی آمد و اخراج 3 لاکھ سے زائد زائد کیوسک ریکارڈ ہوا ہے، جس کے بعد سندھ کی طرف بڑھنے والے پانی نے گڈو، سکھر اور کوٹری بیراج پر صورتحال کو تشویشناک بنا دیا ہے۔

سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ گڈو بیراج پر پانی کی آمد 360,976 اور اخراج 325,046 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سکھر بیراج پر آمد 329,648 اور اخراج 278,398 کیوسک ہے جبکہ کوٹری بیراج پر آمد 237,922 اور اخراج 215,567 کیوسک ریکارڈ ہوا۔

شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے الرٹ ہے۔ کچے کے علاقوں سے اب تک 121,769 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے جبکہ صرف گزشتہ 24 گھنٹوں میں 5,848 افراد کو طبی سہولیات فراہم کی گئیں۔

وزیر اطلاعات سندھ نے بتایا کہ 360,777 افراد ممکنہ سیلاب کے خدشے کے پیش نظر منتقل ہو چکے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں ریسکیو ٹیمیں، ہیلتھ کیمپس اور امدادی سامان پہنچا دیا گیا ہے جبکہ 22 کشتیاں بھی مختلف اضلاع کو فراہم کی گئی ہیں۔

شرجیل میمن کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 64,487 مویشیوں کو ویکسینیشن اور علاج فراہم کیا گیا جبکہ مجموعی طور پر 820,811 مویشیوں کو طبی سہولت دی جا چکی ہے۔ صرف گزشتہ روز میں 14,495 مویشی محفوظ مقامات پر منتقل کیے گئے۔

Related Posts