کراچی سمیت ملک بھر کے متعدد شہروں میں فلور ملوں نے نئے ود ہولڈنگ ٹیکس کے خلاف آج سے ہڑتال شروع کر دی۔ اس کارروائی سے ملک بھر میں گندم پیسنے کی سہولیات بند ہونے کی وجہ سے ممکنہ آٹے کے بحران کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
پی ایف ایم اے ساؤتھ کے چیئرمین عامر عبداللہ نے غیر معینہ مدت کی ہڑتال شروع کرنے کا اعلان کیا، جس کے نتیجے میں کراچی سمیت تمام ملوں سے آٹے کی سپلائی مکمل طور پر رک گئی۔ اس ہڑتال سے بھینس کالونی میں مویشیوں کو چوکر کی فراہمی پر بھی نمایاں اثر پڑنے کی توقع ہے۔
پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن (پی ایف ایم اے) کے رہنماؤں نے نشاندہی کی کہ حکومت نے 2024-2025 کے بجٹ میں ود ہولڈنگ ٹیکس میں 5.5 فیصد تک اضافہ کیا ہے جو کہ غذائی سپلائی چین میں مختلف پوائنٹس پر ہے جس سے مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
واک آؤٹ سے سپلائی چین میں خلل پڑنے سے آٹے کی ممکنہ قومی قلت کے بارے میں خدشات پہلے ہی بڑھ رہے ہیں۔ پشاور سمیت خیبرپختونخوا میں 250 سے زائد فلور ملوں نے کام بند کر دیا ہے۔
پی ایف ایم اے نے خبردار کیا کہ جب تک حکومت اور ایسوسی ایشن کے درمیان ڈیڈ لاک دور نہیں ہوتا، مارکیٹ میں آٹے کی شدید قلت کا خطرہ ہے۔ ہڑتال کے نتیجے میں آج سے 5 کلو، 10 کلو اور 20 کلو گرام وزنی آٹے کے تھیلوں کی پیداوار بند ہو گئی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








