لاہور: وفاقی حکومت کی جانب سے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کو شہریوں کے فون ٹیپ کرنے کی اجازت دینے کے نوٹیفکیشن کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔
شہری فہد شبیر نے ایڈووکیٹ ندیم سرور کے توسط سے وزیراعظم، وفاقی حکومت اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سمیت دیگر کو مدعا علیہ نامزد کرتے ہوئے درخواست دائر کی ہے۔
درخواست گزار نے دلیل دی کہ پاکستانی حکومت نے آئی ایس آئی کو ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے فون ٹیپ کرنے کی اجازت دی لیکن پی ٹی اے ایکٹ کی شق 56 کے لیے کوئی ضابطہ قائم نہیں کیا گیا جس کے تحت یہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی شہریوں کو رازداری اور اظہار رائے کی آزادی کا آئینی حق حاصل ہے۔
درخواست گزار نے بھارتی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا حوالہ دیا کہ فون ٹیپنگ غیر آئینی ہے اور عدالت سے استدعا کی کہ آئی ایس آئی کی ٹیپنگ کی اجازت کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔
درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت درخواست کے حل ہونے تک نوٹیفکیشن پر عمل درآمد معطل کرے۔ درخواست گزار نے حکومت سے پی ٹی اے ایکٹ کے سیکشن 56 کے تحت ضابطے قائم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








