پیرس: فرانس کے سابق صدر نکولس سرکوزی کو لیبیا سے انتخابی مہم کے لیے فنڈز لینے کی کوششوں کے الزام میں فوجداری سازش کے مقدمے میں پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
فیصلے نے فرانس کی سیاست میں زلزلہ برپا کر دیا اور سرکوزی کو جنگِ عظیم دوم کے بعد قید ہونے والے پہلے صدر کا اعزاز دے دیا۔
عدالت سے باہر ردِعمل
فیصلے کے بعد عدالت سے نکلتے ہوئے انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں فیصلے کو شرمناک قرار دیا اور کہا کہ اگر وہ چاہتے ہیں کہ میں جیل میں سوؤں، تو میں سر اٹھا کر جیل میں سوؤں گا لیکن میں کسی ایسی چیز پر معافی نہیں مانگوں گا جو میں نے کی ہی نہیں۔ ان کی اہلیہ اور معروف گلوکارہ کارلا برونی بھی اس موقع پر ان کے ساتھ موجود تھیں۔
الزامات اور فیصلہ
پیرس کی عدالت نے قرار دیا کہ سرکوزی 2005 سے 2007 کے درمیان فوجداری سازش کے مرتکب پائے گئے، جب ان کے قریبی ساتھیوں نے معمر قذافی کی حکومت سے انتخابی مہم کے لیے مالی تعاون حاصل کرنے کی کوشش کی۔
عدالت نے انہیں بدعنوانی اور غیرقانونی انتخابی فنڈنگ کے الزامات سے بری کر دیا۔ان کے وکیل ژاں مشیل داروئیس نے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اپیل کی عدالت سے انصاف کی امید رکھی جاتی ہے۔
جیل کی تیاری
عدالت کے مطابق یہ سزا فوراً قابلِ عمل ہے اور سرکوزی کو ایک ماہ کے اندر جیل جانا ہوگا۔ فرانسیسی میڈیا کے مطابق انہیں 13 اکتوبر کو طلب کیا جائے گا تاکہ ان کی قید کا شیڈول بتایا جا سکے۔
امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انہیں پیرس کی مشہور لا سانتے جیل میں رکھا جائے گا، جہاں اس سے قبل کارلوس دی جیکل اور پانامہ کے سابق آمر مانویل نوریگا جیسے نامور قیدی بھی رہ چکے ہیں۔
سیاسی اور عوامی ردعمل
فرانس کی سیاست میں اس فیصلے نے تقسیم پیدا کر دی۔ دائیں بازو کے رہنماؤں نے سرکوزی کے حق میں بیانات دیے، جب کہ بائیں بازو نے اسے عدلیہ کی آزادی اور طاقت کی مثال قرار دیا۔
انتہا پسند دائیں بازو کی رہنما میرین لی پین، جنہیں مارچ میں یورپی فنڈز کے خردبرد پر سزا سنائی گئی تھی، نے کہا کہ فوری طور پر سزا پر عمل درآمد قانونی نظام کے لیے خطرہ ہے۔
سول سوسائٹی تنظیم شیئرپا کے وکیل ونسینٹ برینگارٹ نے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ یہ عدلیہ کی آزادی اور شجاعت کا ثبوت ہے۔پیرس کی گلیوں میں عوامی رائے بھی منقسم نظر آئی۔
ایک طالب علم نے کہا کہ یہ اچھی بات ہے کہ ایک سابق صدر کو بھی اپنے اعمال کا جواب دینا پڑ رہا ہے۔ لیکن ایک بزرگ شہری نے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ سیاستدانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اصل مقاصد کچھ اور ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








