کراچی: شہر میں ہونے والے بلدیاتی ضمنی انتخابات کے دوران ڈرامائی صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے امیدوار محمد علی کو ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے بعد فاتح قرار دے دیا گیا، جس میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی امیدوار شہنیلہ عامر کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
ریٹرننگ افسر کی نگرانی میں ہونے والی دوبارہ گنتی نے ابتدائی نتائج کو مکمل طور پر بدل ڈالا۔ بدھ کو جاری کیے گئے ابتدائی نتیجے میں شہنیلہ عامر کو یونین کونسل نمبر 1، اورنگی ٹاؤن کی چیئرپرسن نشست پر فاتح قرار دیا گیا تھا، جس میں انہوں نے 3 ہزار 801 ووٹ حاصل کیے تھے، جب کہ محمد علی کے ووٹ 1 ہزار 787 قرار دیے گئے تھے۔
دوبارہ گنتی کے دوران انکشاف ہوا کہ شہنیلہ عامر کے ووٹ صرف 1 ہزار 600 تھے، جو ابتدائی اعلان سے نصف سے بھی کم نکلے۔ یوں سرکاری فارم 14 کے مطابق محمد علی نے 1 ہزار 787 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی جبکہ پی پی پی امیدوار دوسرے نمبر پر رہیں۔
https://urdu.mmnews.tv/epbd-report-reveals-each-pakistani-owes-rs318252-in-debt/
دوبارہ گنتی کا عمل 12 پولنگ اسٹیشنز پر مکمل کیا گیا، جن میں سے 7 ٹی ایل پی اور 5 پی پی پی کی درخواست پر کھولے گئے تھے۔ ووٹوں کے اس ڈرامائی الٹ پھیر نے انتخابی شفافیت پر مزید سوالات کو جنم دے دیا ہے۔
دوسری جانب، صوبائی کابینہ میں بڑی تبدیلیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق بلدیات کی وزارت سعید غنی سے واپس لے کر ناصر حسین شاہ کے سپرد کی جا رہی ہے جبکہ سعید غنی کو محنت و سماجی تحفظ کا قلمدان دیا جائے گا۔ صوبائی وزیر محنت شاہد تھیہم کو عہدے سے ہٹا دیا جائے گا۔
اس کے ساتھ ساتھ اسماعیل راہو کو صوبائی کابینہ میں شامل کرتے ہوئے یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کی وزارت دی جائے گی۔ جام خان شورو کو محکمہ منصوبہ بندی و ترقی کا اضافی چارج ملے گا جبکہ شام سندر کو وزیر اعلیٰ کا معاون خصوصی مقرر کیا جائے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








