نیوزی لینڈ جانے کا سنہری موقع! گولڈن ویزا اسکیم تبدیلیوں کے ساتھ دوبارہ شروع

تازہ ترین

تازہ ترین

New Zealand reopens golden visa scheme with changes
ONLINE

ویلنگٹن: نیوزی لینڈ نے غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے اپنی گولڈن ویزا اسکیم کو تبدیلیوں کے ساتھ دوبارہ کھول دیا ہے۔

سات سال کے بعد پہلی مرتبہ غیر ملکیوں کو نیوزی لینڈ میں جائیداد خریدنے کی اجازت دے دی گئی ہے بشرطیکہ اس کی مالیت کم از کم 50 لاکھ نیوزی لینڈ ڈالر (تقریباً 2اعشاریہ 93 ملین امریکی ڈالر) ہو۔

یہ اقدام ملک کے ایکٹیو انویسٹر پلس ویزا میں کی گئی حالیہ اصلاحات کے بعد سامنے آیا ہے جس کا مقصد سرمایہ کاری کو بحال کرنا اور جمود کا شکار ہاؤسنگ مارکیٹ میں اعتماد پیدا کرنا ہے۔

یہ گولڈن ویزا جو پہلی بار 2022 میں متعارف کرایا گیا تھا اور اپریل 2025 میں اس میں مزید سہولیات دی گئی تھیں، اب کم از کم 50 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کا تقاضا کرتا ہے جو اس سے قبل 1 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تھا۔ یہ ویزا تین سے پانچ سال کے اندر مستقل رہائش اور بالآخر شہریت کا راستہ فراہم کرتا ہے۔

اگست کے آخر تک امیگریشن نیوزی لینڈ کو 329 درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے سب سے زیادہ 42 فیصد امریکی، 15 فیصد چینی اور 12 فیصد ہانگ کانگ کے شہریوں کی جانب سے تھیں، جو تقریباً 2 ارب ڈالر کی متوقع سرمایہ کاری کی نمائندگی کرتی ہیں۔ اب تک 51 درخواست دہندگان نے فنڈز منتقل کر کے ویزے حاصل کیے ہیں۔

آپ بھی بیروزگار ہیں تو یورپ جاکر قسمت آزمائیں! سویڈن کاورک ویزا حاصل کرنے کا آسان طریقہ

نئی پالیسی کے تحت ان ویزا ہولڈرز کو 50 لاکھ ڈالر یا اس سے زیادہ مالیت کے لگژری گھروں کی خریداری یا تعمیر کا حق دیا گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا عام پراپرٹی مارکیٹ پر محدود اثر پڑے گا کیونکہ ملک کی صرف 0اعشاریہ 4 فیصد جائیدادوں کی مالیت اس حد سے زیادہ ہے۔

نیوزی لینڈ کی ہاؤسنگ مارکیٹ وبا کے بعد سے نمایاں طور پر نیچے آئی ہے، جنوری 2022 کی بلند ترین سطح کے مقابلے میں اوسط قیمتوں میں 17اعشاریہ 2 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

آکلینڈ اور ویلنگٹن سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیںجبکہ کرائسٹ چرچ میں معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاروں کی طلب آکلینڈ، کوئینز ٹاؤن، بے آف آئی لینڈز اور ہاکس بے جیسے پرکشش مقامات پر سرگرمی بڑھا سکتی ہے، جہاں لگژری اسٹیٹس، انگور کے باغات اور جدید طرز تعمیر کی رہائش گاہیں دستیاب ہیں۔

ڈیولپرز بھی لگژری لائف اسٹائل منصوبوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں، جیسے آکلینڈ کے قریب ٹے آری لنکس اور کوئینز ٹاؤن میں دی ہلز کے گالف کمیونٹیز، جہاں امریکی سرمایہ کار مضبوط ڈالر کے باعث دلچسپی دکھا رہے ہیں۔

نیوزی لینڈ کی بطور محفوظ پناہ گاہ کشش اب بھی برقرار ہے، خاص طور پر ان امریکی اور یورپی شہریوں کے لیے جو سیاسی غیر یقینی صورتحال اور عالمی عدم استحکام سے پریشان ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق مقامی مارکیٹ پر اثرات محدود ہوں گے کیونکہ کروڑوں ڈالر مالیت کے یہ مکانات عام شہریوں کی پہنچ سے باہر ہیں تاہم اس سے ملکی معیشت میں خاطر خواہ سرمایہ آئے گا۔

Related Posts