سابق بھارتی جرنیلوں نے لداخ میں کشیدگی کو ماضی کی نسبت زیادہ سنگین قراردیدیا

تازہ ترین

تازہ ترین

Former Indian Generals say Ladakh tension more serious than in past

ممبئی : بھارتی فوج کے سابق کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل (ر) ڈی ایس ہودا اور قومی سلامتی کے مشاورتی بورڈ کے ممبر لیفٹیننٹ جنرل (ر) ایس ایل نراسماہن کاکہنا ہے کہ چین کے ساتھ لداخ میں جاری سرحدی کشیدگی ماضی کی نسبت زیادہ سنگین ہے۔

بھارتی اخبار دی ہندو کے مطابق جنرل ڈی ایس ہودا کاکہنا ہے کہ 2013دیپ سانگ، 2014 میں چومر اور 2017 میں ڈوکلام میں ہونیوالی کشیدگی موجودہ صورتحال کے مقابلے بہت کم نوعیت کی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں دونوں فریقوں کے مطالبات بالکل واضح تھے،ایک فریق سرحد پر باڑ لگانے کیلئے تیار تھا لیکن دوسرا نہیں ۔

 ڈی ایس ہودا کا کہنا ہے کہ ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ چین سرحد پر کثیر سرمایہ لگاکر واپس چلا جائیگا یا سرحد پر کشیدگی برقرار رہے گی۔

مزید پڑھیں: بھارت خطے میں کشیدگی کو بڑھاوا دے رہا ہے

لیفٹیننٹ جنرل (ر) ایس ایل نراسماہن کا کہنا ہے کہ لداخ میں تناؤ کا معاملہ بہت پرانا ہے لیکن ان دنوں چین اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ گزشتہ سالوں کے درمیان ہونیوالی جھڑپوں کا نتیجہ ہے۔

Related Posts