لاہور: سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ایران سعودیہ تعلقات بہتر ہونے کے بعد ایران سے گیس پائپ لائن میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے، ہم سب مل کر اکٹھے ملک کی ترقی کے لیے کام کریں گے۔
سابق صدر آصف علی زرداری کا آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) رہنما گوہر اعجاز کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا مجھے ابھی پتا نہیں کہ آئی ایم ایف ہمیں پیسے دیتا ہے یا نہیں دیتا لیکن میرے خیال سے 2 ارب ڈالر کی چینی ہے اس کو ایکسپورٹ کیا جائے۔
سابق صدر آصف علی زرداری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ میں نے کسی کو دھوکا نہیں دیا اور مسلم لیگ کو بھی دھوکا نہیں دوں گا۔
انہوں نے کہا کسی بھارتی نے کہا کہ زرداری صاحب نے 100 بلین ڈالر کا بھنڈ مارا ہے، یہ ہم کرکے دکھائیں گے بھنڈ نہیں ماریں گے، میں صنعت کے ساتھ کھڑا ہوں،میں اپنے نظریات اور کاروباری پالیسی سے پیسے کماتا ہوں۔
آصف زرداری نے کہا کہ ہمیں کمپیوٹرز کے ذریعے طالب علموں کا ٹیسٹ لینا چاہیے، تعلیم کے نظام کو بدلنا ہو گا تاکہ بہتر نوجوان سامنے آئیں،آبادی کے اضافے کی وجہ سے مسائل بڑھ رہے ہیں۔
سابق صدر نے کہا کہ اگر ہم سندھ میں پڑی بنجر زمین کو آباد کر دیں تو آپ وہاں مزید صنعت لگا سکتے ہیں، پاکستان کو امیر بنانے کا فارمولا پاکستان کی صنعت کو آگے بڑھانے میں ہے۔
پیپلز پارٹی کے کو چیئرمین نے کہا کہ عدم تحفظ کی وجہ سے پاکستانی بیرون ملک سرمایہ کاری کر رہے ہیں، میں میثاق معیشت پر بات کرنے اور دستخط کرنے کے لیے تیار ہوں، صرف میری فیملی اور کچھ سیاسی خاندانوں کے امیر ہونے سے کچھ نہیں ہو گا۔
سابق صدر نے کہا کہ میں نے کرکٹر کو دوسرے دن ہی کہا تھا کہ میں میثاق معیشت کے لیے تیار ہوں، کرکٹر سے یہ بھی کہا اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تم میرے ساتھ کیا کرتے ہو، رونا دھونا صرف اس بات کا ہے کہ مزید نوٹ نہیں بن رہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم غریب نہیں امیر ملک ہیں، جو پاکستان کو غریب ملک سمجھتے ہیں وہ احمق ہیں، یہ بات اسلام آباد میں بیٹھے لوگوں کو سمجھ نہیں آرہی تو میں کیا کروں؟
مزید پڑھیں:وزیر اعظم دورہ فرانس مکمل کرنے کے بعد برطانیہ پہنچ گئے
انہوں نے کہا کہ بنگلا دیش میں بھارتی ٹیکسٹائل مصنوعات پر میڈ ان بنگلا دیش کا ٹیگ لگتا ہے،بنگلا دیش کی 70 فیصد ٹیکسٹائل برآمدات بھارتی ساختہ ہوتی ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








