کراچی:ایف پی سی سی آئی کے صدر میاں ناصر حیات مگوں نے تاجر برادری کی جانب سے پاکستان میں آذربائیجان کے سفیرخضر فرہادوف کی فیڈریشن ہاؤس میں دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے امکانات اور دائرہ کار پر تبادلہ خیال اور تفصیلی پریزنٹیشن کوسراہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بزنس ٹو بزنس اور پیپل ٹوپیپل روابط، تعلقات اور مشترکہ سرگرمیاں بالآخر دو طرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون میں تبدیل ہوتی ہیں۔ انہوں نے B2B تعاون کو تیز کرنے کے لیے دونوں ممالک کے اعلیٰ ترین وفاقی چیمبرز کے درمیان ایک ایم او یو کی ضرورت پر زور دیا۔
میاں ناصر حیات مگوں نے کہا کہ آذربائیجان پاکستان سے عالمی معیار کی ٹیکسٹائل مصنوعات، پھل، چاول، سرجیکل سامان، دوائیاں اور آئی ٹی کی خدمات سے مسابقتی نرخوں پر فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ جبکہ کارگو ٹرکوں کے ذریعے TIR کنونشن کے تحت پاکستان-آذربائیجان-ترکی کے درمیان گیم چینجر زمینی کارگو ٹرانسپورٹ روٹ کا آغاز ہو گیا ہے۔
انہوں نے دونوں طرف کے تاجروں پر زور دیا کہ وہ TIR کی جانب سے فراہم کردہ کم خرچ، وقت کی بچت اور قابل اعتماد متبادل کا بھرپور استعمال کریں؛ کیونکہ کارگو ٹرک صرف 5 دنوں میں پاکستان سے آذربائیجان پہنچ سکتے ہیں۔
خضرفرہادوف نے فیڈریشن ہاؤس کراچی میں جمع ہونے والے پاکستان کے اعلیٰ کاروباری، تجارتی اور صنعتی رہنماؤں کے اجتماع کو آگاہ کیا کہ آذربائیجان پاکستانی سرمایہ کاروں کا آذربائیجان کے خصوصی اقتصادی زونز (SEZs) میں سرمایہ کاری کرنے کا تہہ دل سے منتظر ہے جو کہ کم لاگت زمین، ٹیکسوں کی کم شرح، سرمایہ کاری کا تحفظ، ریگولیٹری مداخلت سے آزادی، قابل اعتماد یو ٹیلیٹیزاور تمام بنیادی ڈھانچے کی موجودگی سے مزین ہیں۔
ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر اطہر سلطان چاولہ نے کہا کہ دونوں برادر ممالک خام اور پراسیسڈ خوردنی مصنوعات کے باہمی تجارتی حجم میں اضافہ اور علم کے تبادلے کے ذریعے ایک دوسرے کی فوڈ سیکورٹی کا باعث بن سکتے ہیں۔
انہوں نے پاکستانی تاجر برادری کے لیے اوپن ڈور اورپُر سہولت ویزا نظام کا مطالبہ بھی کیا؛ تاکہ اقتصادی اور تجارتی سیاحت کو فروغ دیا جا سکے اور تجارت، سرمایہ کاری اورجوائنٹ وینچرزکے مواقع کی بہتر تلاش کو ممکن بنایا جا سکے۔
مزید پڑھیں:پاکستان نے امارات ورلڈ اسٹیمپ نمائش میں گولڈ میڈل جیت لیا
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








