معروف صحافی فلورین ٹارڈف نے اپنی کتاب این آلموسٹ پرفیکٹ کپل میں دعویٰ کیا ہے کہ فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون کو گزشتہ سال مئی کے دوران ہنوئی کے دورے کے موقعے پر خاتونِ اوّل نے تھپڑ مار دیا تھا، جس کے بعد اس کی شرمناک وجہ اور اس کی تردید بھی سامنے آگئی۔
تفصیلات کے مطابق کتاب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدر اور خاتون اول بریگزیٹ میکرون کے مابین تلخی کی بنیاد صدر کے فون میں دیکھے گئے پیغامات تھے جس سے میاں بیوی کے مابین تنازعات شدت اختیار کر گئے جنہیں ایرانی نژاد فرانسیسی اداکارہ گلشیفتے فارحانی سے منسوب کیا جارہا ہے۔
کتاب میں کیے گئے دعوے کے مطابق صدر میکرون اور اداکارہ کے درمیان کئی ماہ سے ایک قلبی تعلق قائم تھا اور صدر نے انہیں پیغام میں لکھا تھا کہ ”میں آپ کو بہت خوبصورت اور دلکش سمجھتا ہوں“۔ مصنفہ نے یہ ساری باتیں خاتون اوّل کی دوست کے حوالے سے کتاب میں شامل کردی ہیں جن کی فریقین نے تردید کردی۔۔
حال ہی میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا گیا تھا کہ طیارے کے دروازے پر بریگزٹ میکرون نے صدر کے چہرے پر ہاتھ سے جنبش کی جس سے وہ ہل کر رہ گئے، جسے تھپڑ مارنے سے منسوب کیا جارہا ہے، جس پر صدر ایمانویل میکرون نے عوام سے پرسکون رہنے کی اپیل کی تھی۔
دوسری جانب ایلیسی پیلس اور خاتونِ اول کے قریبی ذرائع نے ان تمام الزامات کو قطعی طور پر مسترد کر دیا ہے۔فرانسیسی اخبار ’لی پیریشین‘ سے گفتگو میں ان کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ خاتونِ اول نے ان الزامات کو مکمل طور پر مسترد کردیا ہے اور وہ کبھی اپنے شوہر کا موبائل فون چیک نہیں کرتیں۔ انہوں نے کتاب میں لکھا گیا قصہ ’من گھڑت‘ قرار دے دیا۔
اس کے علاوہ صدر ایمانویل میکرون کا کہنا ہے کہ طیارے میں پیش آنے والا واقعہ محض خوشگوار مذاق تھا۔ جبکہ گل شیفتے فرحانی نے بھی صدر میکرون کے ساتھ کسی قسم کے تعلق کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسی افواہیں پھیلانے والے لوگ اپنی زندگی میں محبت سے محروم ہیں۔
خیال رہے کہ گل شیفتے فرحانی فرانسیسی فلم انڈسٹری کی معروف اداکارہ ہیں جس نے ایم فار مدر، باڈی آف لائیز، اباؤٹ ایلی، دی پیشنس سٹون، پیٹرسن، گرلز آف دی سن ، ایکسٹریکشن اور کئی دیگر فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے اور ایران کی مذہبی حکومت کو تنقید کا نشانہ بھی بنا چکی ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








