دوحہ سے استنبول تک، پاک افغان مذاکرات کے پس پردہ سرگرم ابراہیم قالن کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

ابراہیم قالن، فوٹو انادولو

پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان دوحہ مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کرنے والے ترک انٹیلی جنس ایجنسی (ایم آئی ٹی) کے سربراہ اور صدر ایردوان کے معتمد ساتھی ابراہیم قالن ایک بار پھر عالمی سفارتی منظرنامے پر نمایاں ہو گئے ہیں۔

ترک میڈیا کے مطابق گزشتہ دنوں دوحہ میں ہونے والے پاک افغان مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے میں قالن نے اہم کردار ادا کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ پاکستان اور افغانستان کے مذاکرات کار ہاتھ ملائے بغیر مذاکرات کا اسٹیج نہ چھوڑیں اور اب وہ استنبول میں جاری مذاکرات کی میزبانی کر رہے ہیں۔

ابراہیم قالن کون ہیں؟

1971 میں استنبول میں پیدا ہونے والے ابراہیم قالن نے استنبول یونیورسٹی سے تاریخ میں گریجویشن، ملائیشیا کی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی سے ماسٹرز، اور 2002 میں جارج واشنگٹن یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ مکمل کی۔ 2005 میں انہوں نے حکومتی تھنک ٹینک ’’سیتا فاؤنڈیشن‘‘ قائم کی اور 2014 میں صدر ایردوان کے صدارتی ترجمان مقرر ہوئے۔

وہ ترکی کی خارجہ پالیسی میں برسوں سے سرگرم ہیں اور متعدد عالمی بحرانوں  جیسے ترکی روس تنازع اور قطر امارات کشیدگی میں ثالثی کر چکے ہیں۔

حالیہ برسوں میں وہ غزہ جنگ بندی اور شام سے متعلق مذاکرات میں بھی فعال کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ ترک ذرائع کے مطابق صدر ایردوان ان پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں اور انہیں ترکیہ میں ’’صدر کا سایہ‘‘ کہا جاتا ہے۔

Related Posts