باجوڑ میں مبینہ خودکش دھماکے کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے متعدد افراد کی نمازِ جنازہ ادا کردی گئی ہے جن میں مقامی امیر مولانا ضیاء اللہ بھی شامل ہیں۔
تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں جمعیت علمائے اسلام کے کنونشن میں گزشتہ روز ہونے والے دھماکے کے بعد فضا سوگوار اور ہر آنکھ اشک بار ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکہ مبینہ طور پر خودکش تھا۔
سی پیک کے 10 سال مکمل ہونے پر جشن، چینی نائب وزیر اعظم کی آمد
دھماکے کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی تعداد 42 ہوگئی جبکہ کم از کم 150افراد زخمی ہوئے تھے۔ شدید نوعیت کے زخمیوں کو پاک فوج کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے پشاور منتقل کیا گیا۔ آئی جی خیبر پختونخوا نے کہا کہ دھماکہ بظاہر خودکش تھا۔
آئی جی کے پی کے کا کہنا تھا کہ دھماکے میں 10 کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا۔ جائے وقوعہ سے بال بیئرنگ بھی برآمد ہوئے ہیں۔ صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور وزیر اعظم سمیت ملک کی معروف شخصیات نے دھماکے کی شدید مذمت کی۔
گزشتہ روزجاری کنونشن میں رکنِ قومی اسمبلی جمال الدین اور سابق سینیٹر عبدالرشید دمیت کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی، اراکین پارلیمنٹ جمال الدین اور عبدالرشید معجزانہ طور پر دھماکے سے محفوظ رہے۔ معمولی زخمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








