محبت کے نام پر اجتماعی زیادتی کا ایک اور ہولناک واقعہ سامنے آگیا۔ ملزمان نے لڑکی کو آگے فروخت کرکے ایک اور شخص سے شادی پر مجبور بھی کردیا۔
تفصیلات کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے چھترپور ضلع کے چندلا تھانہ کے تحت آنے والے بِلہری گاؤں کی رہنے والی ایک لڑکی کے ساتھ پیش آیا، جس کا کہنا ہے کہ 26اکتوبر کو اس کے اپنے ہی گاؤں کے رہنے والے شخص نے محبت کا جھانسا دیا اور کہا کہ وہ شادی کرنا چاہتا ہے۔
بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ ملزم نے گھر کے باہر ہی اس کا منہ دبا کر اسے اغوا کرلیا۔ ملزم نے اپنے ایک ساتھی کو بلایا اور دونوں اسے بائیک پر بٹھا کر ساتھ لے گئے۔ بعد ازاں محبت کا دعویٰ کرنے والا شخص جس کا نام رجولی بتایا گیا ہے، اسے ایک جنگل میں لے گیا اور ساتھیوں کو بھی بلا لیا۔
چار ملزمان نے لڑکی کو 5روز تک اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا جس سے لڑکی کی صحت خراب ہوگئی۔ ملزمان نے اسے ایک اور شخص کے ہاتھ 1 لاکھ 20 ہزار روپے میں فروخت کردیا اور خریدار نے اس سے زبردستی شادی کرلی۔ بعد ازاں لڑکی نے اپنے بھای کو ساری حقیقت بتا دی۔
متاثرہ لڑکی کا بھائی پولیس کے ساتھ شادی کرنے والے شخص کے گھر پہنچا اور لڑکی کو واپس لے آیا، تاہم بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق لڑکی تاحال انصاف حاصل نہیں کرسکی۔ اب تک بھارتی پولیس صرف 2افراد کے خلاف کیس کی بات کرتی نظر آتی ہے اور لڑکی کا میڈیکل بھی نہیں کرایا گیا۔
لڑکی کا کہنا ہے کہ وہ کئی ماہ سے چکر لگا رہی ہے اور جب تک انصاف نہیں ملتا، وہ چین سے نہیں بیٹھے گی۔ متاثرہ لڑکی کا کہنا ہے کہ میں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاؤں گی اور وہاں سے بھی انصاف مانگوں گی۔ جب تک ان درندوں کو سزا نہیں ملتی، مجھے سکون کا سانس نصیب نہیں ہوگا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








