ایران میں جاری پرتشدد احتجاج کے شدت اختیار کرنے، کئی شہروں میں سرکاری عمارات، دکانوں اور مساجد کو نقصان پہنچانے اور 50 سے زائد ہلاکتوں کے بعد بھی یہ سلسلہ تھمتا ہوا نظر نہیں آتا۔
امریکی میڈیا کے دعوے کے مطابق صرف تہران میں مظاہروں کے دوران اموات 217 ہوگئیں تاہم یہ دعویٰ ایک ایسے ڈاکٹر کے حوالے سے کیا جارہا ہے جس نے یہ بات میڈیا کو اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہی تھی۔ ایک رپورٹ کے مطابق بادشاہت کے حق میں نعرے بازی کرنے والوں نے سڑکیں بلاک کردیں، پولیس اسٹیشنز پر حملے کیے اور کئی اہلکاروں کو زخمی کردیا۔ میئر تہران رضا زکانی کے حوالے سے پریس ٹی وی کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے 26بینکس، 2ہسپتالوں، 25مساجد، پولیس تنصیبات اور 48فائر ٹرکس کو بھی نقصان پہنچایا۔
بی بی سی کے مطابق دو انسانی حقوق کی تنظیموں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان مظاہروں میں اب تک کم از کم 50 مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں اور جمعرات کی شام سے ایران میں تقریباً مکمل انٹرنیٹ بندش نافذ ہے جس کے باعث معلومات حاصل کرنا اور ان کی تصدیق کرنا انتہائی کٹھن ہو گیا ہے اور امریکی ادارے ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ 28 دسمبر سے شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے بعد اب تک کم از کم 50 مظاہرین اور 15 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 2311 سے زائد افراد کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے۔
ایرانی حکومت کے مؤقف کی بات کی جائے تو حال ہی میں لبنان کے دورے کے دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے حزب اللہ سے وابستہ المنار ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’ایران کی صورتحال عمومی طور پر بہتر ہے، اگرچہ کچھ مسائل ایسے ہیں جو پابندیوں اور اقتصادی کمزوریوں کا نتیجہ ہیں۔ ایسی حکومت کے لیے جو عوامی حاکمیت اور جمہوریت پر مبنی ہو، احتجاج فطری ہیں۔ اور ایسا ہی ہو رہا ہے۔‘
یہاں یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ موساد اور سی آئی اے کی ہم آہنگی سے ایران میں انٹیلی جنس نیٹ ورک کے ذریعے دامے، درمے ، سخنےایرانیوں کو اکسانے میں کوئی عار نہ چھوڑی گئی جس کی واضح مثال گزشتہ برس جون کے مہینے میں کلیدی عسکری و سائنسی سربراہان کا قتل اور جنگ کے دوران ٹھیک ٹھیک نشانے پر فلیٹس اور محلوں میں ایران کے کلیدی افرادکو قتل کیاگیا۔ایران میں رجیم چینج اسرائیل کی دیرینہ خواہش رہی ہے اور اب ٹرمپ کی دھمکی اسے شرمندہ تعبیر کرتے ہوئے نظر آرہی ہے۔
اس سے قبل امریکی صدر ایرانی مظاہرین پر تشدد یا قتل کی صورت میں ایران پر حملے کی دھمکی دے چکے ۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ساتھ گرین لینڈ کو بھی مشکل میں ڈالا ہوا ہے۔ گزشتہ روز وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ روس اور چین گرین لینڈ جا پہنچیں، اس لیے امریکا کو گرین لینڈ کامالک ہونا چاہئے تاکہ روس یا چین اس پر قبضہ نہ کریں۔ ہم گرین لینڈ کو حاصل کرلیں گے چاہے وہ راضی ہو یا نہ ہو، کیونکہ یہ امریکا کی قومی سلامتی کا سوال ہے۔
وکی پیڈیا کے مطابق رقبے کے لحاظ سے گرین لینڈ دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے جو برِ اعظم کا درجہ نہیں رکھتا اور دنیا کا سب سے کم گنجان آباد سیلف گورنڈ خطہ بھی گرین لینڈ ہی ہے، جس کی آبادی 55 ہزار 700نفوس پر مشتمل ہے۔گرین لینڈ کا مرکزی حصہ برف کے نیچے دبنے کی وجہ سے سمندر کی سطح سے نیچے دھنس گیا ہے اور اگر یہ برف پگھل جائے تو گرین لینڈ کا زیادہ تر وسطی علاقہ زیر آب آ جائے گا۔
دراصل پہلے ایران پر حملے کی دھمکی اور پھر گرین لینڈ پر قبضے کے ارادوں سے پتہ چلنے والا توسیع پسندانہ رجحان اس وقت شروع ہوا جب امریکی فوج نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو رواں ماہ کے آغاز میں گرفتار کیا اور پھر نیویارک پہنچا دیا جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے مطابق انہوں نے یہ کارروائی لائیو دیکھی۔ صدر ٹرمپ اب بھی مختلف واقع پر اس کارروائی کو لائیو دیکھنے کا تذکرہ کرتے رہتے ہیں، غالباً ٹرمپ کی خواہش یہ ہے کہ امریکی قوم ان کے اس توسیع پسندانہ اقدام پر فخر کرے، حالانکہ میئر نیو یارک ظہران ممدانی سمیت چند امریکی رہنما اور امریکی عوام کی بڑی تعداد نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی اس کارروائی کو پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھا۔
اس تمام تر تناظر میں یہ کہنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ایران میں جاری احتجاج کو شہ دینے میں امریکا اوراسرائیل سرفہرست نظر آتے ہیں جبکہ ان میں سے ایک یعنی امریکا توایران پر حملے کی دھمکی دے چکا، جیسا کہ اوپر ذکر کیاگیا جبکہ اسرائیل نے ایران کو حملے کا نشانہ بنایا بھی،تاہم محسوس کچھ ایسا ہوتا ہے کہ ایران پر امریکا کا حملہ اس سے کہیں زیادہ سنگین اور طاقتور ہوسکتا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان سمیت خطے کےتمام ممالک ایک نئی کشیدہ صورتحال کا شکار ہوسکتے ہیں، کیونکہ ایسی صورت میں امریکی اور اسرائیلی ایران میں رجیم چینج کے ذریعے تسلط حاصل کرلیں گے ۔ وینزویلا کے برعکس ایران کے آرمی چیف نے باور کرادیا ہے کہ ایران خطرہ محسوس کرتے ہوئے پری ایمپٹو اسٹرائیک کرسکتا ہے اور ایران یقیناً ایک ایسی قوت ہے جس کے رد عمل سے خطے میں ایک بھونچالی کیفیت پیدا ہونے کا امکان ہے، جس کے اثرات و مضمرات پاکستان پر شدید ہوسکتے ہیں اور پاکستان کیلئے لازم ہے کہ اس ممکنہ صورتحال سے نبرد آزما ہونے کیلئے اپنی پیشگی منصوبہ بندی ریہرسل کے ساتھ تیار رکھے اور ممکنہ محاذ آرائی کے اوقات میں ناگہانی چیلنجز سےبچاؤ یقینی بنائے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں