پاکستان میں توانائی کے شعبے میں اس وقت گیس کی قیمتوں کا تعین ایک اہم مسئلہ بنا ہوا ہے خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی ایل این جی مارکیٹ شدید اتار چڑھاؤ کا شکار ہے۔ بین الاقوامی سطح پر ایل این جی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہونے کے باوجود ملک کی بڑی گیس کمپنیوں نے مقامی صارفین کے لیے نرخوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔
اس صورتحال کے باعث قیمتوں میں فرق پیدا ہو گیا ہے کیونکہ اب یوٹیلیٹی ادارے مہنگی درآمدی آر ایل این جی کے بجائے نسبتاً سستی مقامی گیس پر زیادہ انحصار کر رہے ہیں۔
متعلقہ حکام بشمول ریگولیٹری ادارے اس تبدیلی کے مالی اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں خاص طور پر اس پہلو سے کہ مہنگی درآمدات سے گریز کر کے کتنی اضافی بچت حاصل ہو رہی ہے جبکہ صارفین سے وہی پرانے نرخ وصول کیے جا رہے ہیں۔
ماضی میں درآمدی آر ایل این جی کی لاگت مقامی گیس کے مقابلے میں کہیں زیادہ رہی ہے اس لیے جتنی زیادہ مقدار میں مقامی گیس استعمال کی جا رہی ہے اتنی ہی مجموعی لاگت میں کمی آ رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں قطر سے سپلائی میں رکاوٹوں کے بعد عالمی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے، جس سے یہ فرق اور بھی بڑھ گیا ہے۔
اس سے قبل پاکستان مہنگی اور کم طلب کے باعث درجنوں ایل این جی کارگو مؤخر بھی کر چکا ہے جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ درآمدی ایندھن کی لاگت قابلِ برداشت نہیں رہی۔
آر ایل این جی کی فراہمی میں کمی کے باعث مقامی گیس کو برتری حاصل ہو گئی ہے تاہم فوری طور پر اس کا فائدہ صارفین کو منتقل کرنے کے بجائے نرخ برقرار رکھے گئے ہیں تاکہ مجموعی مالی فائدے کا مکمل اندازہ لگایا جا سکے۔
اسی دوران حکومت نے نئے آر ایل این جی کنکشنز پر بھی پابندی عائد کر دی ہے تاکہ موجودہ قیمتوں پر مزید طلب پیدا نہ ہو اور نظام پر اضافی دباؤ نہ بڑھے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








