آئی ایم ایف سے قرض کیلئے حکومت گیس صارفین پر مزید کتنا بوجھ ڈالے گی؟

تازہ ترین

تازہ ترین

gas subsidies set to end by June For IMF's loan programme
(فوٹو؛ فائل)

اسلام آباد: حکومت نے آئی ایم ایف سے قرض کیلئے گیس صارفین کو فراہم کی جانے والی 100 ارب روپے کی سبسڈی اور آر ایل این جی ڈائیورشن کی مد میں صارفین کو دی جانے والی 29 ارب روپے کی سبسڈی کو جون 2024 تک ختم کرنے کے ساتھ ساتھ گردشی قرضہ جمع کرنے کے حوالے سے کام تیز کردیا ہے۔

انگریزی اخبار دی نیوز کے مطابق وزارت توانائی کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ 8 ارب ڈالر کے نئے آئی ایم ایف پروگرام کے لیے حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے کی شرائط پر عملدرآمد شروع کردیا ہے۔

اس بار حکومت نے کراس سبسڈی کو کم کرنے کے لیے یکم فروری 2024 سے محفوظ گھریلو صارفین کے لیے گیس ٹیرف میں 40 سے 65.29 فیصد تک اضافہ کیا ہے جبکہ حکومت کے مطابق ٹیرف میں اضافہ کرنے کے لیے ابھی بھی گنجائش ہے۔

ودسری جانب اطلاعات یہ ہیں کہ آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ کمزور طبقے کو سستے ٹیرف کے ساتھ تحفظ فراہم کیا جائے جب تک کہ بی آئی ایس پی پروگرام کے ذریعے کوئی متبادل طریقہ کار اختیار نہ کیا جائے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہمیں آئی ایم ایف کو وہ منصوبہ دینا ہے جس کے تحت محفوظ صارفین کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے سبسڈی دی جائے گی یا کراس سبسڈی ختم کرنے کے لیے ان سے گیس کی پوری قیمت وصول کرنے کے لیے کسی اور طریقہ کار کے ذریعے ریلیف دیا جائے گا۔

Related Posts