غزہ کے محصور عوام کے لیے امداد لے جانے والا عالمی فلوٹیلا اسرائیل کے قریبی خطرناک زون میں داخل ہو چکا ہے، جہاں اس کے کئی جہازوں کے قریب نامعلوم کشتیاں دیکھی گئیں جو بغیر روشنی کے سمندر میں حرکت کر رہی تھیں۔
فلوٹیلا کے منتظمین کے مطابق ان مشکوک کشتیوں کے قریب آنے کے بعد وہ وہاں سے ہٹ گئیں تاہم فلوٹیلا کے شرکاء نے ممکنہ اسرائیلی روک تھام کے خدشے کے پیش نظر حفاظتی اقدامات نافذ کر دیے ہیں۔
عالمی اتحاد صمود فلوٹیلا نے اپنے ٹیلیگرام پیغام میں کہا کہ ہم اب اس خطرناک زون میں داخل ہو گئے ہیں، یہی وہ علاقہ ہے جہاں ماضی میں دیگر فلوٹیلاز پر حملے یا روکاوٹ ڈالی گئی تھی، اس وقت ہم ہائی الرٹ پر ہیں۔
دوسری جانب اٹلی نے اعلان کیا ہے کہ اس کا فوجی جہاز غزہ جانے والے اس بین الاقوامی فلوٹیلا کا مزید تعاقب نہیں کرے گا، جس کے بعد سرگرم کارکن اسرائیلی کارروائی کے سامنے غیر محفوظ ہو سکتے ہیں۔
وزارت دفاع اٹلی کے مطابق جب یہ قافلہ غزہ کے ساحل سے 150 ناٹیکل میل (278 کلومیٹر) کے فاصلے پر پہنچے گا تو اطالوی فریگیٹ اپنا تعاقب روک دے گی، جس کا امکان بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ظاہر کیا گیا۔
یہ فلوٹیلا 40 سے زائد سول کشتیاں لے کر روانہ ہوا ہے، جن میں 500 سے زائد افراد شامل ہیں۔
ان میں ارکان پارلیمان، وکلاء اور معروف ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ بھی شریک ہیں۔ اس سفر کا مقصد اسرائیل کی جانب سے غزہ پر عائد طویل ناکہ بندی کو توڑنا اور محصور فلسطینی عوام تک براہ راست امداد پہنچانا ہے۔
اطالوی حکومت نے فلوٹیلا کو ایک متبادل تجویز بھی پیش کی تھی کہ امداد کو قبرص کی بندرگاہ پر اتار دیا جائے تاکہ اسرائیلی بحریہ کے ساتھ ممکنہ تصادم سے بچا جا سکے۔
فلوٹیلا کے نمائندوں نے اس تجویز کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ ہم ایک بار پھر کہتے ہیں کہ فلوٹیلا اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہے۔ اطالوی بحریہ اس مشن کو ناکام نہیں بنا سکتی۔ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر محاصرہ توڑنے کا مطالبہ کسی بندرگاہ میں چھوڑ کر واپس نہیں لوٹایا جا سکتا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








