تہران: جرمنی نے ایران میں زیر حراست لڑکی کی ہلاکت کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں سیکیورٹی فورسز کے کریک ڈاون اور گرفتاریوں کے پیش نظر اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت کردی۔
جرمن وزارت خارجہ کے مطابق شہریوں سے کہا گیا ہے وہ ایران سے نکل جائیں، ایران میں جرمن شہریوں کی گرفتاریوں کا خطرہ موجود ہے، جرمن شہریوں سے پوچھ گچھ اور قید کی سزائیں ہونے کا خطرہ ہے۔
واضح رہے کہ ایران میں مظاہرین کے خلاف سیکیورٹی فورسز کا کریک ڈاؤن جاری ہے، کریک ڈاؤن میں اب تک صحافیوں سمیت ہزاروں افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
ایران میں 22 سالہ مہسا امینی کی ہلاکت کے خلاف ڈیڑھ ماہ سے مظاہرے جاری ہیں، مہسا امینی ایرانی پولیس کی زیر حراست مبینہ طور پر دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئی تھی۔
مزید پڑھیں:امریکا نے عمران پر حملے کی مذمت کردی، تمام فریقین سے پرامن رہنے کا مطالبہ
واضح رہے کہ مہسا امینی کو اسکارف پہننے کے قانون کی خلاف ورزی پر 13 ستمبر کو گرفتار کیا گیا تھا۔جس کی موت کے بعد ملک بھر میں مظاہرے پھوٹ پڑے تھے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








