اسلام آباد اور اس کے گردونواح میں سولر انرجی استعمال کرنے والے ہزاروں صارفین کو ایک نئے مسئلے کا سامنا ہے جہاں انہیں اپنے موجودہ گرین میٹر تبدیل کر کے مہنگے آٹومیٹک میٹر ریڈنگ (AMR) میٹر لگانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ہدایت اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) کی جانب سے دی گئی ہے اور صارفین کو تین ماہ کے اندر اندر نئے میٹر نصب کرنے کا کہا گیا ہے تاکہ وہ نیٹ میٹرنگ سسٹم سے فائدہ اٹھاتے رہیں۔
متاثرہ صارفین کا کہنا ہے کہ انہوں نے پہلے ہی اپنے گھروں میں سولر سسٹم لگانے پر 10 لاکھ روپے یا اس سے زیادہ خرچ کیا تھا اور اب انہیں ایک نئے اسمارٹ میٹر کے لیے 52 ہزار روپے مزید ادا کرنے کا کہا جا رہا ہے۔
صارفین کے مطابق پرانے گرین میٹر جو وہ خود خرید کر لگوا چکے تھے اور اب آئیسکو کی ٹیمیں ہٹانے جا رہی ہیں۔ یہ گرین میٹرز دراصل ایسے دوطرفہ اسمارٹ میٹرز ہیں جو یہ ناپتے ہیں کہ صارف نے کتنا بجلی استعمال کی اور کتنی بجلی سولر پینلز کے ذریعے واپس نیشنل گرڈ کو دی۔ ہر تین ماہ بعد ان اعداد و شمار کی بنیاد پر صارفین کو یا تو بل ادا کرنا ہوتا ہے یا اضافی پیداوار کا کریڈٹ دیا جاتا ہے۔
دوسری جانب متعدد صارفین نے اس فیصلے کے خلاف وزیراعظم پورٹل پر شکایات درج کروائی ہیں جن میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ آئیسکو کو اس مہنگے اور غیرضروری اقدام سے روکا جائے۔
آئیسکو کے ایک ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ میٹرز کی تبدیلی کا فیصلہ اصولی طور پر کر لیا گیا ہے تاہم فی الحال یہ عمل روک دیا گیا ہے اور حتمی پالیسی جلد متعارف کروائی جائے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








