بالی ووڈ اور مراٹھی فلموں کی معروف اداکارہ گریجا اوک نے سوشل میڈیا پر اپنی فحش جعلی تصاویر کے پھیلاؤ پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔
اداکارہ نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ان کی مقبولیت اور تعریفی پیغامات خوش آئند ہیں مگر پرائیویسی کی اس خلاف ورزی نے انہیں بہت پریشان کر دیا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ بعض تصاویر واضح طور پر اے آئی کے ذریعے بنائی گئی ہیں اور ان میں غیر ضروری جنسی رنگ ڈال دیا گیا ہے جو ان کے لیے ناقابل قبول اور تکلیف دہ ہیں۔
گریجا اوک نے بتایا کہ یہ تصاویر ایک انٹر ویو کلپ کے وائرل ہونے کے بعد زیادہ شیئر کی جا رہی ہیں جس میں وہ نیلی ساڑی میں نظر آئیں۔
اداکارہ نے مستقبل کے ممکنہ نقصانات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ایک بارہ سالہ بیٹا ہے اور ایک دن وہ ان تصویروں تک پہنچ سکتا ہے۔
اگرچہ بیٹا جان لے گا کہ یہ تصاویر جعلی ہیں، مگر ماں کی ایسی تصویر دیکھنا اس کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہو گا یہ خدشہ ان کے لیے بہت بڑا ہے۔
گریجا اوک نے دیکھا کہ لوگ جانتے ہیں یہ مواد مصنوعی ہے، پھر بھی لائکس اور ویوز کے لیے اسے دیکھتے اور شیئر کرتے ہیں، اور یہی رویہ سب سے خطرناک ہے۔
اداکارہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اے آئی کے ذریعے کسی بھی شخص کی نامناسب یا جنسی نوعیت کی تصاویر بنانے اور بانٹنے سے پہلے ایک لمحہ رک کر سوچیں۔
ایسی تصاویر کو دیکھ کر لطف اٹھانے والے بھی مسئلے کے حصہ ہیں اور نتائج کا سوچیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ڈیجیٹل اخلاقیات اور لوگوں کی عزت کی پاسداری وقت کی ضرورت ہے۔
اس واقعے نے ایک وسیع تر بحث کو جنم دیا ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کے خلاف سخت قوانین، پلیٹ فارمز کی ذمہ داری اور صارفین کی تربیت کس طرح ضروری ہے تاکہ نجی شخصیات اور عام عوام دونوں کی ذاتی حدود اور وقار محفوظ رہ سکیں۔
میڈیا اور سوشل نیٹ ورکس پر اس موضوع پر گفتگو جاری ہے اور کئی ادارے اس قسم کے مواد کے خلاف سخت نگہداشت اپنانے پر زور دے رہے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








