ملکی زرعی شعبے کے لیے امید کی نئی کرن روشن ہوگئی ہے جہاں پاکستان کے آلو نے عالمی سطح پر اپنی جگہ بنانا شروع کردی ہے اور کسانوں کے لیے بہتر دنوں کی نوید سنائی دے رہی ہے۔
روس کی جانب سے پنجاب سے آلو درآمد کرنے کی اجازت ملنے کے بعد نہ صرف برآمد کنندگان بلکہ کاشتکاروں کے لیے بھی نئی امیدیں جنم لے رہی ہیں۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق یہ اجازت 8 اپریل 2026 سے موثر ہو چکی ہے جس کے بعد پاکستان کے منتخب برآمد کنندگان روسی منڈی میں اپنی مصنوعات بھیج سکیں گے۔اس فیصلے کو خاص اہمیت اس لیے بھی دی جا رہی ہے کیونکہ گزشتہ سال مئی 2025 سے اس پر مختلف نوعیت کی پابندیاں عائد تھیں جو اب ختم کر دی گئی ہیں۔
ابتدائی مرحلے میں چند پاکستانی کمپنیوں کو برآمدات کی اجازت دی گئی ہے جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ مستقبل میں مزید اداروں کو بھی اس فہرست میں شامل کیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ کاروباری حلقے اس موقع سے فائدہ اٹھا سکیں۔
ماسکو میں تعینات پاکستانی تجارتی مشن کی سربراہ شبانہ عزیز کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان تجارتی روابط کو مزید فعال بنانے کے لیے آن لائن کاروباری ملاقاتوں (بی ٹو بی سیشنز) کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد پاکستانی برآمد کنندگان کو روسی خریداروں سے براہِ راست جوڑنا ہے۔
دوسری جانب پاکستان میں اس وقت آلو کی ریکارڈ پیداوار ہو رہی ہے، جس کا تخمینہ تقریباً 12 ملین ٹن لگایا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق نئی منڈی تک رسائی سے اضافی پیداوار کو برآمد کرنے میں مدد ملے گی جس سے مقامی منڈی میں قیمتوں کا توازن برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ کسانوں کو بھی بہتر معاوضہ مل سکے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








