کراچی میں گٹر کے کھلے مین ہولز، ٹوٹے ہوئے ڈھکن اور خراب اسٹریٹ لائٹس کے مسلسل بڑھتے ہوئے افسوسناک واقعات نے آخرکار شہری انتظامیہ کو جگا دیا۔ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے اعلان کیا ہے کہ شہر کی ہر یونین کمیٹی کو اب گٹر ڈھکنوں اور اسٹریٹ لائٹس کی مرمت و بحالی کے لیے اضافی ایک لاکھ روپے ماہانہ فراہم کیے جائیں گے۔
میئر کراچی نے بتایا کہ نئے بلدیاتی نظام کے تحت پہلے ہی ہر یوسی کو 5 لاکھ روپے ماہانہ دیے جا رہے تھے جن کا مقصد گلی محلوں کے بنیادی مسائل کو حل کرنا تھا۔ ان کے مطابق کئی یوسیز نے ان فنڈز کا درست استعمال کیا مگر مختلف علاقوں سے شکایات موصول ہوئیں کہ رقم ناکافی ہے یا تنخواہوں میں خرچ ہو جاتی ہے۔
مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ شہری مسائل میں اضافے کے پیش نظر یہ معاملہ صوبائی قیادت کے سامنے رکھا گیا جس کے بعد سندھ حکومت نے یوسی شیئر کو بڑھا کر 12 لاکھ روپے کر دیا۔ تاہم توقعات کے مطابق نتائج سامنے نہ آسکے۔
انہوں نے کہا کہ نیپا کے دل خراش سانحے جس میں ایک معصوم بچہ مین ہول میں گر کر جاں بحق ہوا کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہر یوسی کو مخصوص طور پر گٹر کے ڈھکن اور اسٹریٹ لائٹس کی مرمت کیلئے مزید ایک لاکھ روپے ماہانہ دیے جائیں گے۔
میئر کراچی کے مطابق یہ رقم دسمبر سے جاری کی جائے گی اور اسے صرف اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا تاکہ شہریوں کے روزمرہ کے خطرناک مسائل کا فوری اور مؤثر حل نکالا جا سکے۔
واضح رہے کہ 30 نومبر کی رات نیپا فلائی اوور کے قریب پانچ سالہ ابراہیم گٹر میں گر گیا تھا جس کی لاش طویل اور تکلیف دہ تلاش کے بعد 14 گھنٹے بعد نالے سے نکالی گئی۔ یہ واقعہ شہر کے بوسیدہ نکاسی آب نظام اور ناقص شہری انتظامیہ پر سنگین سوالات چھوڑ گیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








