راولپنڈی کی انسداد دہشتگردی عدالت نے شوکت خانم میموریل ٹرسٹ (ایس کے ایم ٹی) اور نمل یونیورسٹی کے بینک اکاﺅنٹس بحال کرنے کا حکم دے دیا۔ فیصلہ علیمہ خان کے خلاف ایک کیس میں آیا جس میں ان کے ذاتی اکاﺅنٹس پر پابندی برقرار رکھی گئی ہے۔
عدالت نے 24 اکتوبر 2025 کو علیمہ خان کے قومی شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور تمام بینک اکاﺅنٹس فریز کر دیے تھے تاہم آج کے فیصلے میں عدالت نے شوکت خانم میموریل ٹرسٹ اور نمل یونیورسٹی کے اکاﺅنٹس بحال کرنے کا حکم دیا۔
فیصلے کی تفصیلات
جسٹس امجد حسین شاہ نے علیمہ خان کے اکاﺅنٹس فریز رکھنے کے فیصلے کو برقرار رکھا لیکن شوکت خانم میموریل ٹرسٹ اور نامل یونیورسٹی کے اکاﺅنٹس بحال کرنے کا حکم دیا۔ یہ فیصلہ انٹرا بینک ٹرانسفرز پر عائد پابندیوں کو بھی ختم کرتا ہے جو دونوں اداروں کیلئے مالیاتی سرگرمیوں کو معمول پر لانے میں مدد گاڑے گا۔
شوکت خانم میموریل ٹرسٹ جو کینسر کے مریضوں کا علاج اور دیکھ بھال کے لیے کام کرتا ہے جبکہ نمل یونیورسٹی جو تعلیم کے شعبے میں خدمات انجام دیتی ہے، دونوں عمران خان کی جانب سے قائم کیے گئے ہیں۔ ان اداروں کے اکاﺅنٹس فریز ہونے سے ان کی سرگرمیاں متاثر ہوئی تھیں لیکن آج کے فیصلے سے انہیں راحت ملی ہے۔
قانونی کارروائی
عدالت نے علیمہ خان کے خلاف کیس میں سماعت کے دوران یہ فیصلہ سنایا۔ علیمہ خان نے اپنے اکاﺅنٹس بحال کرنے کی درخواست دائر کی تھی جبکہ شوکت خانم میموریل ٹرسٹ اور نامل یونیورسٹی کے نمائندوں نے بھی اپنے اکاﺅنٹس بحال کرنے کے حق میں دلائل پیش کیے۔ عدالت نے ان دلائل کو قبول کرتے ہوئے فیصلہ سنایا۔
اس فیصلے سے شوکت خانم میموریل ٹرسٹ اور نمل یونیورسٹی کو مالیاتی طور پر معمول پر آنے میں مدد ملے گی جو دونوں اداروں کے لیے ایک بڑی راحت ہے تاہم علیمہ خان کے ذاتی اکاﺅنٹس پر پابندی برقرار رکھنا سیاسی اور قانونی تنازعات کو جاری رکھے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








