وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان ریلوے کو ہدایت کی ہے کہ وہ علاقائی رابطوں سے متعلق منصوبوں کے لیے بین الاقوامی معیار کے قانونی اور اقتصادی ماہرین کی خدمات حاصل کر کے اپنی جدید کاری کے اقدامات کو تیز کرے۔
اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران وزیراعظم نے حکام کو بتایا کہ جدید ریلوے نیٹ ورک ملک کی معیشت اور نقل و حمل کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔ بریفنگ کے دوران حکام نے رپورٹ دی کہ پاکستان ریلوے اپنی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو وسعت دے رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ رابطہ منصوبے کے تحت سات ڈیجیٹل پورٹلز مکمل طور پر فعال ہیں، چھپن ٹرینیں اس نظام میں منتقل ہو چکی ہیں اور چونتیس اسٹیشنز کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ مزید بتایا گیا کہ کراچی، لاہور، راولپنڈی، اور فیصل آباد ریلوے اسٹیشنز پر اب مفت وائی فائی دستیاب ہے، جبکہ دسمبر تک 48 مزید اسٹیشنز اس سہولت سے مستفید ہوں گے۔
حکام نے آن لائن فریٹ بکنگ سسٹم کے آغاز اور کراچی سٹی ریلوے اسٹیشن پر پائلٹ ڈیجیٹل ویگنگ برج کے قیام کا بھی اعلان کیا۔ اگلے مرحلے میں یہ ویگنگ سسٹم پپری، کراچی کینٹ، پورٹ قاسم، لاہور اور راولپنڈی تک پھیلایا جائے گا۔
راولپنڈی ریلوے اسٹیشن پر سکیورٹی کو بہتر بنانے کے لیے 148 اے آئی سے لیس نگرانی کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔ مسافروں کی سہولت کے لیے بڑے اسٹیشنز پر اے ٹی ایم مشینیں بھی لگائی جا رہی ہیں۔
حکام نے یہ بھی بتایا کہ صفائی کی خدمات آؤٹ سورس کر دی گئی ہیں اور بڑے اسٹیشنز میں انتظار گاہوں کو بہتر بنایا گیا ہے، جو سہولیات میں بہتری کے وسیع اقدامات کا حصہ ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








