دنیا بھر میں اس سال شدید اور غیر معمولی قدرتی آفات کے دوران گوگل کے جدید مصنوعی ذہانت (اے آئی) ماڈلز نے اہم پیشگوئی فراہم کر کے انسانیت کو بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان سے بچایا ہے جس میں گوگل ڈیپ مائنڈ کے کردار کو فراموش نہیں کیاجاسکتا۔
تفصیلات کے مطابق سمندری طوفان(ہریکین)، سونامی اور سائیکلون جیسے شدید موسم کی بروقت پیشگوئی نے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو خطرات سے نمٹنے کا موقع دیا اور گوگل ڈیپ مائنڈ وہ پہلا اے آئی ماڈل ہے جس نے روایتی موسمیاتی پیشگوئی کرنے والے نظاموں کو پیچھے چھوڑ دیا۔
ایک رپورٹ کے مطابق طویل عرصے تک یہ سمجھا جاتا رہا کہ قدرتی آفات کی درست پیشگوئی نہیں کی جاسکتی، لیکن ڈیپ لرننگ کی بدولت اب حقیقی وقت میں خطرات کی نشاندہی اور پیشگوئی ممکن ہو گئی ہے۔
گوگل ڈیپ مائنڈ ایک برطانوی-امریکی اے آئی ریسرچ لیبارٹری ہے جو 2010 میں قائم ہوئی اور اب الفابیٹ انکارپوریٹڈ کی ذیلی کمپنی ہے۔محققین کے مطابق مصنوعی ذہانت انسانیت کی اہم ایجادات میں سے ایک ثابت ہو سکتی ہے، اور ڈیپ مائنڈ کا مقصد ایسے سیکھنے والے عمومی الگورتھمز تیار کرنا ہے جو ٹیکنالوجی کو انسانوں کے لیے زیادہ مفید بنا سکیں۔
اس سال اٹلانٹک کے تمام 13 طوفانوں کے دوران گوگل ڈیپ مائنڈ کے ماڈل نے انسانی ماہرین کی ٹریک پیشگوئیوں سے بہتر نتائج دیے۔ طاقتور طوفان میلسا کے بڑھتے ہوئے خطرے کے دوران نیشنل ہریکین سینٹر کے ماہرین نے ابتدائی اندازہ لگایا کہ یہ طوفان انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
لیڈ فورکاسٹر نے گوگل کے اے آئی ماڈل کی مدد سے صرف 24 گھنٹوں میں یہ پیشگوئی کی کہ طوفان جلد کیٹیگری 4 میں تبدیل ہو جائے گا اور جمیکا کے ساحل کی جانب مڑ جائے گا۔ یہ غیر معمولی پیشگوئی تھی، جو ماضی میں کبھی کسی ماہر نے اس حد تک واضح طور پر نہیں کی تھی۔
جون میں پہلی بار جاری کیے گئے ڈیپ مائنڈ ہریکین ماڈل نے گزشتہ سال بھی بڑے موسم کے پیٹرنز کی درست پیشگوئی کی تھی، اور اس سال بھی اس کے نتائج درست ثابت ہوئے۔ آخرکار ہریکین میلسا واقعی جمیکا سے تباہ کن طاقت کے ساتھ ٹکراگیا، جس کی پیشگوئی کی گئی تھی۔
سابق ماہر مائیکل لوری کے مطابق مصنوعی ذہانت پر مبنی ماڈل روایتی فزکس بیسڈ موسمیاتی ماڈلز کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے کام کرتے ہوئے کم کمپیوٹنگ پاور استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ ہریکین سیزن نے واضح کر دیا کہ نئے اے آئی ماڈلز نہ صرف روایتی ماڈلز کے مقابلے میں قابلِ اعتماد ہیں بلکہ کئی مواقع پر زیادہ درستگی سے نتائج بھی دیتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








