حکومت ایک بار پھر سستی ایل این جی کی خریداری میں ناکام، صنعتکاروں نے سر پیٹ لیا

تازہ ترین

تازہ ترین

حکومت ایک بار پھر سستی ایل این جی کی خریداری میں ناکام، صنعتکاروں نے سر پیٹ لیا
حکومت ایک بار پھر سستی ایل این جی کی خریداری میں ناکام، صنعتکاروں نے سر پیٹ لیا

اسلام آباد: پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت رواں مالی سال کے دوران ایک بار پھر سستی ایل این جی کی خریداری میں ناکام ہو گئی جس پر صنعتکار شدید پریشانی میں مبتلا ہو گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی رپورٹ کے مطابق مہنگی ایل این جی کی اہم تفصیلات منظرِ عام پر آگئیں۔ گزشتہ روز حکومت کو مارچ کے ایل این جی ٹینڈر میں بھی 22 اعشاریہ 2 فیصد کا ریٹ دیا گیا۔

رواں مالی سال کے دوران جنوری میں دیر سے ٹینڈر کرنے کے باعث صنعتکار اور عوام کی بڑی تعداد پہلے ہی مہنگی ایل این جی خریدنے پر مجبور ہے۔ مسلسل 5 ماہ سے حکومت تاخیر کے باعث یا تو ایل این جی حاصل کرنے میں ناکام ہوجاتی ہے یا پھر یہ مہنگے ترین ریٹس پر دستیاب ہوتی ہے۔

وفاقی حکومت کی نااہلی کے باعث قومی خزانہ ایل این جی کی خریداری کی مد میں 122 ارب روپے کا خسارہ برداشت کر رہا ہے جس میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید اضافے اور صنعتکاروں اور عوام کی مشکلات مزید بڑھنے کے خدشات سر اٹھا رہے ہیں۔ 

یاد رہے کہ اِس سے قبل وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر اور سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی کے مابین انرجی سیکٹر پر گفتگو ہوئی جس کے دوران ندیم بابر نے کہا کہ ہم نے سستی ایل این جی خرید کر 238 ملین ڈالرز بچائے ہیں۔

نجی ٹی وی شو میں گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پاکستان میں انرجی کا سوائے ایل این جی کے، کوئی حل نہیں ہے۔ اگر ایل این جی نہ آتی تو آپ کو بے پناہ مشکلات کا سامنا ہوتا۔ خوشی ہے کہ موجودہ حکومت اِس بات کا اعتراف کرتی ہے۔

مزید پڑھیں:  ہم نے سستی ایل این جی سے 238 ملین ڈالرز بچائے۔ ندیم بابر 

Related Posts