کراچی میٹرک بورڈ کے اہم عہدے خالی، امتحانات کھٹائی میں پڑنے کا خدشہ

تازہ ترین

تازہ ترین

کراچی میٹرک بورڈ کے اہم عہدے خالی، امتحانات کھٹائی میں پڑنے کا خدشہ
کراچی میٹرک بورڈ کے اہم عہدے خالی، امتحانات کھٹائی میں پڑنے کا خدشہ

کراچی میٹرک بورڈ کے اہم عہدے خالی ہیں جس کے نتیجے میں ثانوی جماعتوں کے امتحانات اور نتائج میں تاخیر کے خدشات سر اٹھانے لگے۔

تفصیلات کے مطابق ثانوی تعلیمی بورڈ کےبیشتر اہم عہدے خالی ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔اہم ترین عہدے خالی ہونے سےتمام شعبوں کے امور ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں۔ بورڈ کیلئے کام کرنا مشکل ہوگیا۔تعلیمی بورڈ کے مختلف کام تعطل کا شکار ہونے لگے۔باوثوق ذرائع کے مطابق امتحان لینے اور نتائج تیار کرنے میں بھی تاخیر ہوسکتی ہے۔

سندھ حکومت نے تعلیمی بورڈ میں عہدیداروں کی تعیناتی کے حوالے سے اب تک سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا ہے۔میٹرک بورڈ میں افسران کا سنگین بحران پیدا ہو گیا ہے تعلیمی بورڈ میں 19 گریڈ کا ایک بھی افسر موجود نہیں ہے۔ بیشتر اہم عہدے خالی ہونے سے امور کی انجام دہی مشکل ہونے لگی ہے۔

اس حوالے سے چیئرمین میٹرک بورڈ کراچی سید شرف علی شاہ نے بتایا کہ عہدے خالی ہونے کی وجہ یہ ہے کہ میٹرک بورڈ کےدرجنوں تجربہ کار اور سینئر افسران ریٹائر ہوگئے ہیں۔ یہ عہدے کافی عرصے سے خالی ہیں تاہم محکمۂ تعلیم کے افسران نے اب تک کسی ایک افسر کا ان خالی عہدوں پر تقرر یا تبادلہ نہیں کیا ہے۔ 

چیئرمین میٹرک بورڈ کے مطابق سیکریٹری، ناظم امتحانات سمیت دیگراہم نشستوں پرقائم مقام افسران کام کررہےہیں۔سید شرف علی شاہ نے تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ شعبہ آئی ٹی میں منیجر سمیت بعض عہدے خالی ہیں، جبکہ آئی ٹی کا شعبہ موجودہ دور میں ادارے کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ آئی ٹی کے شعبے کو مضبوط کرے کے لیےقانون کےتحت بھرتیاں کی جائیں گی۔

میٹرک بورڈ چیئرمین نے کہا کہ بورڈ میں 12 سال سے افسران عارضی بنیادوں پر کام کررہےہیں،عارضی بنیادوں پر کام کرنیوالوں کوبھی قوانین کے تحت مستقل کیا جائے گا۔ امتحانی مراکز میں طلباء کو مکمل سہولیات دینا ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔ماضی میں ایسے امتحانی مراکز بنائے گئے جو سینٹرکےلائق ہی نہیں تھے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری ترجیح ہے کہ سہولیات سے آراستہ امتحانی مراکز کا انتخاب کیا جائےتاکہ طلباء کو امتحانات کے دوران مشکلات کا سامنا نہ ہو۔ نقل اور پرچہ آؤٹ ہونے جیسے واقعات قومی المیہ ہیں جن کی روک تھام بورڈ اور میڈیا مل کر کریں گے تاکہ اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: تعلیمی ادارے 18 جنوری سے  کھولنے کا فیصلہ، قوم کا مستقبل کیا ہوگا؟

Related Posts