شہبازشریف کی منی لانڈرنگ کیس میں بریت، حکومت کی تردید، حقیقت کیا ہے ؟

تازہ ترین

تازہ ترین

مسلم لیگ ن کے صدر و اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور انکے بیٹے سلیمان شہباز کیخلاف منی لانڈرنگ کیس میں برطانوی عدالت نے انکے کھاتے منجمد کرنے کے احکامات کو کالعدم قراردیدیا ہے تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کیخلاف منی لانڈرنگ کا لندن میں کوئی مقدمہ نہیں بنایا گیا تھا، حکومت کا کہنا ہے کہ ایسا تاثر دیا گیا کہ شہباز شریف کو کیس میں بریت ملی ہے، برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی کا فیصلہ سلیمان شہباز کے دو اکاؤنٹس منجمد کرنے سے متعلق تھا۔

برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی میں کیس
شہباز شریف اور انکے بیٹے سلیمان شہباز کیخلاف یہ کیس دسمبر 2017ء میں حکومت پاکستان کی درخواست پر این سی اے نے دائر کیا تھاجس پر کرائم ایجنسی نے بینک اکائونٹس سخت اسکروٹنی سے مشروط کرکے منجمد کئے، پاکستان کے تعاون سے برطانیہ اور متحدہ عرب امارات میں بھی تحقیقات کی گئیں۔

نیشنل کرائم ایجنسی نے عدالت کو بتایا کہ پاکستان نے این سی اے سے کہا تھا کہ وہ ریاست پاکستان کو مجرمانہ اثاثوں کی بازیابی میں مدد کرے تاہم تحقیقات کے نتیجے میں پاکستان کیلئے کوئی ’قابل وصولی جائیداد‘ نہیں ملی۔

این سی اے کی تحقیقات کی روشنی میں برطانیہ کی ویسٹ منسٹر عدالت کے جج نکولس ریمر نے شہباز شریف اور سلیمان شہباز منی لانڈرنگ کیس میں انکے کھاتے منجمد کرنے کے احکامات کو کالعدم کرکے اکاؤنٹس بحال کر دیئے ہیں۔

ایف آئی اے کی تحقیقات
وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کی جانب سے شہباز شریف اورسلیمان شہباز کے خلاف پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق چائے والے نے7کروڑ روپے،گھی والے نے 4 کروڑ روپے اور ڈرائی فروٹ والے نے 45 لاکھ روپے منتقل کیے۔

ایف آئی اے کے مطابق 25 ارب روپے میں سے8 ارب روپے کی مشکوک ٹرانزیکشنز غیرمتعلقہ افراد سے منتقل ہوئی ہیں۔کاٹن، رائس، فلوررملز، پراپرٹی ایجنٹس کی جانب سے اربوں روپے بھیجے گئے جبکہ پھلوں، سبزیوں کی دکانوں، میڈیکل اسٹورز، فرنیچر،کپڑے کی دکانوں سے رقم منتقل ہوئی ہے۔

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کی دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ کھلونے کی دکانوں اور پی سی اوز سے بھی اربوں روپے کی ٹرانزیکشنز ہوئی ہیں۔ یہ ٹرانزیکشن رمضان شوگرملز اور العربیہ کے جعلی اکائونٹس میں کی گئیں۔

مسلم لیگ ن کا موقف
ن لیگ کا کہنا ہے کہ شریف خاندان کا پچھلے تین سال سے ظالمانہ جھوٹا احتساب کیا جارہا ہے لیکن حکومت آج تک کوئی ثبوت دینے میں ناکام رہی ہے، این ایس اے نے جامع تحقیقات کی ہے،اس تحقیقات میں شہباز شریف اور سلیمان شہباز کا کلیئر ہونا بہت بڑی بات ہے، ۔

حکومت کا ردعمل
مشیر داخلہ واحتساب شہزاد اکبر کاکہنا ہے کہ برطانوی عدالت نے شہباز شریف کیس کا 2 صفحات پر مشتمل مختصر فیصلہ جاری کیا، برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی نے فیصلہ 10 ستمبر کو جاری کیا، فیصلہ 2 اکاؤنٹس کو منجمد کرنے سے متعلق تھا۔

اس پورے فیصلے میں شہباز شریف کا نام نہیں جبکہ برطانوی عدالت نے بریت کا کوئی فیصلہ نہیں دیالیکن تاثر دیا جا رہا ہے کہ شہباز شریف سرخرو ہوگئے، شہباز شریف کیخلاف منی لانڈرنگ کے 2 مقدمے پاکستان میں چل رہے ہیں، شہباز شریف کے سرخرو ہونے کی منطق پر حیران ہوں۔

حقیقت کیا ہے
حکومت کا کہنا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک غریب ممالک سے لوٹے گئے پیسے رکھنے کیلئے سیف ہیونز ہیں، ان ملکوں کے اس حوالے قوانین بہت جانبدارانہ ہیں، اگر ان کا پیسہ کسی دوسرے ملک جائے تو انہیں تکلیف ہوتی ہے،شہبازشریف اور سلیمان شہباز کیخلاف مقدمہ ہمارے کہنے پر شروع نہیں کیا گیا۔

مشکوک ٹرانزیکشن بینک رپورٹ کرتا ہے، بینک نے نیشنل کرائم ایجنسی کو رپورٹ کیا جس پر انہوں نے اکاؤنٹس منجمد کیے اور اسے کنفر م کروانے عدالت گئے، نیشنل کرائم ایجنسی نے تحقیقات حکومت پاکستان کے کہنے پر شروع نہیں کی، پاکستان نے اس پورے مقدمے میں این ایس اے کے کہنے پر صرف معاونت فراہم کی۔

حکومت ایک طرف معاملے سے لاتعلقی کا اظہار کررہی ہے جبکہ دوسری جانب فیصلے پر تحفظات کا اظہار بھی کیا جارہا ہے تاہم برطانوی عدالت کے فیصلے سے شہبازشریف کو ایک بڑا ریلیف ضرور ملا ہے اوراگر حکومت سمجھتی ہے کہ برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی نے درست تحقیقات نہیں کی یا فیصلہ حق بجانب نہیں ہے تو اس پر دوبارہ شواہد کے ساتھ مقدمہ دائر کرکے حقیقت سامنے لائی جائے اور اگر حکومت کے پاس شواہد نہیں ہیں تو حقیقت کو تسلیم کرکے فیصلے کو قبول کرنے میں ہی دانشمندی ہے۔

Related Posts