ملک بھر میں پیٹرول سمیت اہم پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ پٹرول کی قیمت میں 100 روپے فی لیٹر اضافہ کیاجاسکتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ عوام پر منتقل کرنے کی تیاری کرلی۔ حکام کا ماننا ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں درآمدی لاگت کے مقابلے میں 100 روپے جبکہ ڈیزل میں 200 روپے فی لیٹر سے زائد کا فرق موجود ہے۔
وفاقی حکومت ملک بھر میں پیٹرول کی قیمت 100 روپے فی لیٹر تک بڑھانے کا مبینہ ارادہ رکھتی ہے، تاہم وزیراعظم شہباز شریف ہی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حتمی اضافے کی منظوری دیں گے۔ خدشہ ہے کہ آئندہ چند روز میں نئی قیمتوں کا اعلان کردیا جائے گا۔
یاد رہے کہ خطے میں جاری ایران جنگ کے باعث پاکستان میں مہنگائی نے 19 ماہ کی نئی بلند ترین حد چھو لی، شرح 7.30 فیصد تک جا پہنچی۔ مارچ کے دوران متعدد اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا، چکن، پھلوں اور سبزیوں سمیت کھانے پینے کی کئی چیزیں مہنگی ہو گئیں،
ادارہ شماریات کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق جبکہ موٹر فیول کی قیمتیں 18 فیصد بڑھ گئیں اور ٹرانسپورٹ کے کرائے 9 فیصد سے زائد ہو گئے۔ گزشتہ ماہ مرغی کا گوشت 13 فیصد مہنگا ہوا، پھلوں کی قیمتوں میں 11.25 فیصد جبکہ سبزیوں کے نرخوں میں 5 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








